بیرون ملک بیٹھ کر بلوچ حقوق کا واویلا کرنیوالے کیچ میں خواتین اور بچوں پر تشدد کیخلاف بھی آواز اٹھائیں، مینا مجید

مینا مجید

کوئٹہ(این این آئی) صوبائی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ضلع کیچ کے علاقے الندور، بلیدہ میں بی ایل اے کی جانب سے ایک 12 سالہ بچے کے اغوا اور ایک گھر میں گھس کر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اس واقعے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ بچوں سمیت تین دیگر افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کی فریادی خاتون آج ہر بلوچ سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ اس کے لیے آواز اٹھائے اور انصاف کا مطالبہ کرے، لیکن افسوس کہ وہ بلوچ جو ناروے، کینیڈا، نیدرلینڈز، برطانیہ اور امریکہ میں سیاسی پناہ لے کر رہتے ہیں اور اقوام متحدہ کے سامنے پلے کارڈز اٹھا کر خود کو بلوچ حقوق کی آواز قرار دیتے ہوئے پروپگننڈہ کرتے ہیں وہ ان بے گناہ خواتین اور بچوں کے لیے مکمل خاموش ہیں۔ بی ایل اے کی جانب سے کی جانے والی اس بربریت کے خلاف کیوں یہ گروہ بات نہیں کرتے ؟؟مینا مجید بلوچ نے کہا کہ وہ نام نہاد لوگ جو خود کو بلوچ حقوق کے کارکن اور انسانی حقوق کے علمبردار قرار دیتے ہیں انہیں خواتین اور بچوں کے خلاف اس طرح کی ظلم کیخلاف بھی آواز اٹھانا چاہیے۔ اگر وہ واقعی بلوچ حقوق کی نمائندگی کرتے ہیں تو پھر معصوم خواتین اور بچوں کے خلاف ہونے والے ایسے واقعات پر خاموشی کیوں اختیار کئے ہوئے ہیں؟انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر جو بیرون ملک بیٹھ کر بلوچستان اور بلوچ حقوق کے نام پر واویلا کرتے ہیں، انہیں یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ وہ بی ایل اے اور دیگر شر پسندمسلح گروہوں کی جانب سے عام شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات پر خاموش کیوں رہتے ہیں۔ ناروے، کینیڈا، نیدرلینڈز، برطانیہ اور امریکہ سمیت ان ممالک کو بھی اپنے ہاں مقیم ایسے عناصر کی سرگرمیوں اور ان کے پروپیگنڈوں کا جائزہ لینا چاہیے۔مینا مجید بلوچ نے کہا کہ بلوچ حقوق کی بات کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ انسانی جان، خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے بلاامتیاز آواز اٹھائی جائے۔ کسی بھی شر پسند مسلح گروہ کی جانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔