چمن(آن لائن) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی کے زیر صدارت پشتون قومی جرگہ جنوبی پشتونخوا کے اعلامیہ کی روشنی میں ضلع چمن کا مشاورتی جرگہ چمن کے آریانہ ہوٹل میں منعقد ہوا۔ جرگہ کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض پشتونخوامیپ کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے سرانجام دیئے جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت مولوی شراف الدین نے حاصل کی۔ جرگہ سے پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر حامد خان اچکزئی اور حاجی خدائے میر آکا نے بھی خطاب کیا ۔ صدر مجلس نواب ایاز خان جوگیزئی نے مشاورتی جرگہ سے افتتاحی خطاب میں پشتونخوا وطن وطن میں درپیش صورتحال ، سخت ترین بدامنی ، تمام قومی اور صوبائی شاہراہوں کاسفر کے لیے غیر محفوظ ہونے، پشتونخوا وطن کے قومی معدنی ،آبی اور جنگلی وسائل کو قبضہ کرنے کے لیے لوگوں کو اپنے آبائی وطنوں سے ہجرت کرنے پر مجبور کرنے کی جاری پالیسی ، پشتونوں کی معاشی قتل عام ، تجارت ، کاروبار ، رورزگارسے محروم رکھنے ، مسافری ،مزدوری پر مجبور کرنے کی رواں صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔جرگہ کے شرکاءنے کمیٹی کے انتخاب کے لیے ناموں کی تجاویز پیش کیں جس کا اجلاس ہوا اور ورکنگ کمیٹی کے سربراہ وایگزیکٹیوز کے انتخاب کے لیے نواب ایاز خان جوگیزئی کو مکمل اختیار دیاگیا اور دعائے خیر کی گئی ۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے جرگہ شرکاءوکمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تمام پشتونخو ا وطن اور ملک میں پشتون عوام کی حالت زار ہمارے سامنے ہیں،پشتون جس اذیت سے دوچار ہیں وہ ناقابل بیان ہیں اگر ہم نے اتحاد واتفاق اور متحد ہوکر اپنے وطن اور قوم کے مستقبل کی حفاظت نہ کی تو تاریخ پھر ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ جرگوں کا انعقاد پشتون قومی جرگہ بنو منعقدہ 11تا 14مارچ 2022کے اعلامیہ کی روشنی میں جاری ہیں ۔ جنوبی پشتونخوا کے تمام ڈویژنز واضلاع میں جرگوں کا انعقاد کیا گیا اور پھر اس کے بعد تین دن تک رات گئے کوئٹہ کے گرینڈ کبابش ہال میں جنوبی پشتونخوا کے عوام کا جرگہ جاری رہا جس میں ہم نے تمام معززین ، شرکاءاور ہر مکتبہ فکر کی آراء، تجاویز سنی اور پھر اس جرگہ میں یہ فیصلہ ہوا کہ تمام اضلاع میں مشاورتی جرگوں کا انعقاد اور ورکنگ کمیٹیوں کی تشکیل ہوگی اس سلسلے میں کوئٹہ کا جرگہ منعقد ہوا آج چمن اور پھرسلسلہ وار دیگر اضلاع میں جرگوں کا مشاورتی جرگوں کا انعقاد اور اس کے ذریعے ورکنگ کمیٹیاں تشکیل دی جائے گی جو ہمارے قوم کی آپس کی چھوٹی بڑی رنجشوں، قبائلی مسئلوں کو حل کرنے اور ہر شعبہ زندگی میں اپنی خدمات کو سرانجام دینے میں اپنا کردار ادا کرے گی اور ہماری عوام نے ان منتخب کمیٹیوں پر اعتماد اور ان کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ پشتونوں پر آج تجارت ، کاروبار ، روزگار کے دروازے بند کیئے جارہے ہیں ،چمن میں باڈر ٹریڈ کی بندش ، پابندیوں کے جو غیر آئینی ،غیر قانونی اور پشتون دشمن فیصلے ہوئے اس نے نہ صرف چمن بلکہ تمام جنوبی پشتونخوا کے عوام کی معیشت متاثر ہوئی ۔ آج چمن کے ہزاروں خاندانوں کو نان شبینہ کا محتاج بنایا گیا ہے ۔ حکومت کا تجارت ، روزگار پر پابندی کے اقدامات لاکھوں پشتونوں کے معاشی قتل عام اور بدامنی کو فروغ دینے کے مترادف ہیں، ہم چمن کے عوام کے ساتھ ہر موقع پر کھڑے رہے ہیں اور چمن کے عوام آئندہ بھی جو فیصلہ کرینگے ہم ان کے ساتھ ہر سطح پر کھڑے ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مائنز ومنرل ایکٹ ، دہشتگردی ، بدامنی مسلط کرکے ہمارے عوام کے وسائل ، زمینوں ، جنگلات ، معدنیات کو لوٹنے، قبضہ گیری کے لیے خوف وہراس پھیلاجارہا ہے ، ہنہ اوڑک ، زیارت ، شاہرگ ہرنائی ، دکی ودیگر اضلاع وعلاقوں میں دہشت گردانہ واقعات اور اس میں بے گناہ انسانی جانوں کا ضیاع ، شاہراہوں کی غیر محفوظ ہونے ، اغواءکاری ، چوری ، ڈکیتی کی وارداتیں ، شہریوں کے سرومال کو سنگین خطرات لاحق ہوچکے ہیں ۔اور اس کی ذمہ دار فارم47کی حکومت ہے جو گڈ گورننس ، امن وامان کے قیام اور عوام کے سرومال کی تحفظ میں ناکام ہے۔نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نجات کی راہ پشتونخوامیپ کے محبوب چیئرمین ،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے دکھا دی ہے ۔ محمود خان اچکزئی کی تجاویز پر عملدرآمد ہی ملک کو بحرانوں سے نجات دلا سکتا ہے لیکن ملک کے حکمران ملک میں مزید سیاسی عدم استحکام ، معاشی ، معاشرتی بحرانوں کی جانب دھکیلنے اور ملک کو عالمی طو ر پر تنہائی سے نہیں نکالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جرگہ پشتون اعلیٰ روایات اور ثقافت کا حصہ ہے اور یہی جرگے ہماری قوم کی بقاء، اتحاد واتفاق قائم رکھنے کے لیے سود مند ثابت ہوگی ۔ جہاں بھی پشتون عوام پر سخت حالات ہونگے ہمیں اس کے لیے اپنی آواز بلند کرنی ہوگی ۔
پشتونوں نے اپنے مستقبل کی حفاظت نہ کی تو تاریخ پھر ہمیں معاف نہیں کریگی، نواب ایاز جوگیزئی
