سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 24 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک

پی ٹی آئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانہ کوہسار میں درج مقدمے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24 اراکین قومی اسمبلی (ایم این ایز) اور اراکین صوبائی اسمبلی (ایم پی ایز) کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایف آئی اے کو اگلے احکامات تک ملزمان کے پاسپورٹ بلاک کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پیر کے روز اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پاسپورٹ بلاک کرنے کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا، پولیس کی جانب سے تھانہ کوہسار کے مقدمے میں پی ٹی آئی کے 24 ایم این ایز اور ایم پی ایز کے پاسپورٹ بلاک کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم جاری کردیا اور اسی کے ساتھ ہی اسد قیصر، شہرام ترکئی، شاہ احد، شیر علی ارباب، محمد اقبال آفریدی اور ڈاکٹر امجد علی کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے جنید اکبر، شاہد خٹک، زبیر وزیر، عمر ایوب ارشد عمر زئی، زر عالم، میاں عمر اور اختر خان کا بھی پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے جن اراکین کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا ہے ان میں ہمایوں خان، ریاض خان، عبدالکبیر خان، طفیل انجم آصف محسود، عجب گل، محمد عثمان اور بابر سلیم سواتی بھی شامل ہیں۔ ہمایوں خان، ریاض خان، عبدالکبیر خان، طفیل انجم، آصف محسود، عجب گل، محمد عثمان، بابر سلیم سواتی، عرفان سلیم، ایڈووکیٹ علی زمان اور ملک شہاب کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق مذکورہ افراد مقدمے میں نامزد ملزمان ہیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہوسکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق ملزمان پر ریاستی اداروں پر حملوں اور دہشت گردی کے فروغ جیسے سنگین الزامات عائد ہیں جب کہ وہ عدالت کے روبرو پیش ہونے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جن ملزمان نے عبوری ضمانت حاصل کی، وہ بھی مقدمے میں شامل تفتیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے ملزمان کے پاسپورٹ بلاک کرنے کی درخواست منظور کرلی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ہدایت کی کہ اگلے احکامات تک مذکورہ ملزمان کے پاسپورٹ بلاک رکھے جائیں۔