کوئٹہ (ویب ڈیسک) مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ سے 24 جولائی کو اغواءہونے والے جان محمد اور سجاد علی بحفاظت بازیاب ہوکر اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔ اغواءکاروں کی جانب سے مغویوں کی رہائی کے بدلے ورثاءسے ڈھائی کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ دریں اثناءمرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے صوبائی رہنماءعزت اللہ کاظمی و دیگر کے ہمراہ جان محمد اور سجاد علی کے گھر جاکر ان کی بحفاظت بازیابی پر انہیں اور ان کے اہلخانہ کو مبارکباد پیش کی۔ کاشف حیدری اور وفد کے دیگر ارکان نے جان محمد اور سجاد علی سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی اور بحفاظت گھر واپسی پر خوشی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اہلخانہ سے بھی ملاقات کی اور دونوں کی بازیابی پر انہیں دلی مبارکباد پیش کی۔ کاشف حیدری نے کہا کہ جان محمد اور سجاد علی کی بحفاظت اپنے گھر واپسی باعثِ اطمینان اور خوشی ہے، ہم ان کے اہلخانہ کی خوشی میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کی واپسی پر اہلخانہ کے چہروں پر خوشی دیکھ کر دلی مسرت ہوئی، اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ واضح رہے کہ جان محمد اور سجاد علی 24 جولائی کو اغواءہوئے تھے، جبکہ ان کی رہائی کے لیے ورثاءسے تاوان کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ دونوں کی بحفاظت بازیابی کے بعد مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے صوبائی رہنماءعزت اللہ کاظمی و دیگر کے ہمراہ ان کے گھر جاکر اہلخانہ سے ملاقات کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔
مستونگ، کھڈکوچہ سے اغوا کارگو سروس کے 2 ڈرائیور رضا کارانہ بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے
