اشاعتی ڈیسک: روزنامہ بلوچستان نیوز ویب ڈیسک
کوئٹہ (ویب ڈیسک) جے یو آئی، نیشنل پارٹی، اے این پی، بی این پی اور دیگر جماعتوں کی جانب سے آل پارٹیز کے رہنماﺅں مولانا عبدالواسع، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، اصغر خان اچکزئی و دیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر آل پارٹیز سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں بہت سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی ہے۔ سیاسی جماعتیں ہی مل کر بلوچستان کو ان مسائل سے نکال سکتی ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بلوچستان اسمبلی کو تحلیل کرکے نئے شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ عوام جس جس سیاسی جماعت کو منتخب کرے وہ ہی حکومت بنائے۔ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کے بجائے ان کی بات سنی جائے۔ اگر سیاسی جماعتوں کی بات سنی جائے گی تو ہی بلوچستان میں امن آئے گا۔ موجودہ حکومت میں شامل جماعتیں خود ایک دوسرے کیخلاف بیان بازی کررہی ہیں۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ نظام نہیں چل سکتا۔ کہا جاتا ہے ان حالات کے ذمے دار سردار اور میر ہیں۔ آج ہم پر سردار، نواب، میر، ملک ہی مسلط کروائے گئے ہیں۔ ریاست کو بچانے میں آج سیاسی جماعتیں میدان عمل میں ہیں۔ اب بھی وقت ہے ان مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔ سانحہ زیارت دھرنے کے مطالبات پر حکومت عملدرآمد کرے۔ حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ حکومت زرغون روڈ ریڈ زون کی حفاظت تک نہیں کرسکتی۔ بلوچستان میں امن لانے کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ میں نے وفاقی حکومت کو بلوچستان کے مسائل کے حل کے تجاویز پیش کی ہیں۔ اگر ان تجاویز پر عمل کیا جاتا ہے تو بہتری آئے گی۔ مولانا صاحب کی قیادت میں بلوچستان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
