کوئٹہ (آئی این پی) تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کے سربراہ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے اعلان ہے کیا کہ پشتونخوا وطن کے مسائل، امن و امان کی صورتحال اور عوامی مشکلات پر غور کے لیے 29، 30 اور 31اگست کو کوئٹہ میں جرگہ منعقد کیا جائے گا، جبکہ بعد ازاں پشتونخوا وطن کے تمام پشتونوں کا ایک بڑا جرگہ بھی بلانے کی کوشش کی جائے گی، ملک میں آئین کی بالادستی، رول آف لا، آزاد عدلیہ اور آزاد پریس کے بغیر حالات بہتر نہیں ہوسکتے، پاکستان کو درپیش موجودہ حالات انتہائی تشویشناک ہیں، گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والے واقعات پر عوام کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا جبکہ پارلیمنٹ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو بھی اہم معاملات سے دور رکھا گیا ہے، کشمیر میں جمہوری مطالبات کے لیے جاری مارچ کو روکنے اور تشدد سے بچانے کے لیے سیاسی جماعتوں نے کوشش کی، تاہم انہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیر میں انسانی جانوں کا نقصان ہوا اور عوام پر طاقت کا استعمال کیا گیا، جس کی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور تحریک تحفظ آئینِ پاکستان سخت مذمت کرتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پارٹی رہنما ﺅں کے ہمرا ہ کو ئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہو ئے کیا۔ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ آپ آزادی کے متوالے ہیں تو یہ آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ کے علاقے میں کوئی بدمعاشی نہ کرے، ان حالات میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے وطن کے پشتونوں کو اپنے ساتھ ملا کر ان سے مشورہ لے کر آئندہ کا لائح عمل طے کریں گے۔ اس سلسلے میں پشتونخوا وطن میں بھی باجوڑ سے لے کر خیبر پختونخوا تک امن نام کی کوئی چیز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اعلان کر سکتے تھے کہ سرکاری ملازمین یہ نہ کریں ادھر نہ جائیں، ادھر نہ جائیں لیکن ہم اتنی بڑی ذمہ داری اپنے سر لینا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن صاحب کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ نہ امن ہے، نہ کچھ اور۔ شام کو کس کی بادشاہی ہوتی ہے، رات کو کس کی ہوتی ہے اور دن کو کس کی ہوتی ہے؟ اغوا برائے تاوان، لوگوں کا مرنا جینا، ان تمام حالات کے پیش نظر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ 29، 30 اور 31 اگست کو کوئٹہ میں ہم پشتونخوا وطن کے لوگوں کا ایک اجتماع بلائیں گے اور ان سے مشورہ کریں گے، کیونکہ نہ حکومت ہے، نہ عدالت۔ عدالتوں کے پر کاٹ دیے گئے ہیں۔ پریس والے بھی موجود ہیں، جو قلم اٹھاتے ہیں اور لکھتے ہیں مگر نہ کچھ لکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کچھ بیان کرسکتے ہیں۔ پتہ نہیں وہ دن کب آئے گا۔ ٹی وی پر بھی وہ کچھ نہیں ہو رہا اگر بنیادی انسانی حقوق کی بات کریں، ظلم کے خلاف جلوس نکالیں تو سیدھی سر میں گولی مار دی جاتی ہے۔ یہ کہاں کی حکومت ہے؟ یہ کہاں کا طریقہ ہے؟ ان حالات میں 29 اور 30 اگست کو یہاں جرگہ بلا رہے ہیں، اور ہم نے اپنے اردگرد کے دوستوں سے بھی مشورہ کیا ہے کہ شاید ستمبر یا اکتوبر میں پشتونخوا وطن کے تمام پشتونوں کا ایک جرگہ بلایا جائے جس میں ان حالات پر غور کیا جائے۔ہمارے راستے بند ہیں۔ تجارت، چاہے وسطی ایشیا کی طرف سے ہو، اس پر پابندی ہے، اور چاہے تفتان کی طرف سے ہو، اس پر بھی پابندی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پشتونوں کے حلیے، ان کی پگڑی اور ان کی داڑھی کو پوری دنیا اور پاکستان کے شہریوں کے سامنے دہشت گردی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ بس جس کی داڑھی ہے، جس کی پگڑی ہے، اسے پکڑ لیا جاتا ہے۔ پاکستان کے تمام شہروں میں ہمارے لوگوں کی زندگی تنگ کر دی گئی ہے۔ نہ وہ سندھ میں سکون سے رہ سکتے ہیں، نہ پنجاب میں۔ کراچی میں بھی مشکلات ہیں۔ ہر جگہ پتہ نہیں کیوں ہمیں غلط سمت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ان حالات میں ہم پشتونوں کا بھی ایک جرگہ بلائیں گے۔ ہم صرف بلانے والے ہوں گے، اگر کوئی اور بلائے تو بھی ٹھیک ہے۔ یہ اتنے سنجیدہ مسائل ہیں جو صرف سیاسی پارٹیوں کے ذریعے حل نہیں ہوں گے بلکہ قوموں کے درمیان جرگوں کے ذریعے حل ہوں گے یہ حکومت جسے نہ مینڈیٹ حاصل ہے یہاں ہمارے لوگوں کی جدی پشتی زمینیں دوسروں کے نام الاٹ کر رہی ہے۔ ہزاروں ایکڑ زمین لوگوں کو الاٹ کی جاچکی ہے۔ گوادر میں آپ کہتے ہیں کہ کوئی خارجی آدمی جو اس ضلع کا نہ ہو، اس کی الاٹمنٹ نہیں چلے گی تو پھر آپ یہاں ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ ہم ان الاٹمنٹس کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ مائنز اینڈ منرلز کی بات الگ ہے۔ جہاں وسائل موجود ہیں، وہاں کے قبائل سے بات کریں۔ 30سے 35فیصد علاقے کے نام، 30سے 35فیصد کام کرنے والوں کے لیے، باقی آپ کے۔انہوں نے کہا کہ 5اگست کو عمران خان کی قید کو تین سال پورے ہو رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ حکومت کس طرح وجود میں آئی ہے اور کس طرح کے انتخابات ہوئے ہیں۔ ابھی کشمیر میں لوگ مر رہے ہیں، پولنگ اسٹیشنوں پر 17، 20اور 25ووٹ پڑ رہے ہیں مگر لوگ کہہ رہے ہیں کہ فلاں جیت گیا ہے۔ میں تحریک انصاف سے بھی کہتا ہوں کہ 5تاریخ کو ملک بھر میں، جہاں ممکن ہو، تحصیل اور ضلع کی سطح پر، تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کی طرف سے پاکستان گیر جمہوری تحریک کا آغاز ہوگا۔ ہم کہتے ہیں کہ رول آف لا ہو، اس ملک میں آئین ہو، بنیادی انسانی حقوق ہوں، ظلم اور جبر کا یہ تماشا بند ہو۔یہاں لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ لشکر بنائیں، 50 لوگوں کو آپ کے حوالے کرتا ہوں۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ اگر لوگ گلی کوچوں میں لڑیں گے تو اس سے بلوچستان اور پاکستان کا کیا فائدہ ہوگا؟ ہم تمام سیاسی جماعتوں سے کہیں گے کہ 5 تاریخ سے شروع ہونے والی تحریک میں نہ مار دھاڑ ہوگی اور نہ گالیاں دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن کے ادارے پتہ نہیں کہاں سو رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہی نہیں کہ کون کتنے پیسے کھا رہا ہے۔ جب ایک عام آدمی کو معلوم ہے کہ فلاں شخص کی ٹرانزیکشن کہاں اور کس ملک میں ہو رہی ہے، تو پھر وہ ادارے کیا کر رہے ہیں جن کی ذمہ داری کرپشن روکنا ہے؟ کوئٹہ میں جو اربوں روپے کے فنڈز جاری ہوئے ہیں، وہ کس کے کہنے پر جاری ہوئے ہیں؟ اگر پاکستان مالِ غنیمت ہے کہ جس نے چاہا لوٹ لیا، تو پھر غریب کہاں جائے؟ اور ان کے بچے، جو بھوک سے مر رہے ہیں، وہ کیا کریں؟ انہوں نے کہا کہ بڑی بے دردی سے پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے اور یہی لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم وطن بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں کسی کے مال کو اس طرح نہیں جلایا جائے گا جس طرح بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ہو رہا ہے۔ ہم کمزور ہی سہی، مگر ہمارے علاقے میں کسی جج کو اس طرح نہیں مارا جائے گا۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ہوتے ہوئے راہ چلتے لوگوں پر فائرنگ نہیں ہوگی، عورتوں اور بچوں کو نہیں مارا جائے گا۔ ہم کسی سے لڑائی جھگڑے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے تاریخی وطن کے لیے جدوجہد کریں گے۔80لاکھ روپے کے سامان سے بھری گاڑی کو روک کر اس سے 10لاکھ روپے طلب کیے جاتے ہیں۔ موٹر سائیکل پر آ کر دکانوں میں دستی بم پھینکے جاتے ہیں۔ اس طرح کے کام آزادی کے متوالوں کے نہیں ہوسکتے۔ ایسے کام، جس کی جانب سے بھی ہوں ہم ان کی مذمت کرتے ہیں۔ پشتون تاریخی طور پر تجارت پیشہ رہے ہیں مگر ان پر راستے بند کردیے گئے ہیں۔ جہاز کے ایک گھنٹے کے سفر کا ٹکٹ ایک لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، اور من مانی کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔ یہ ایسے حالات ہیں جنہیں روکنے کے لیے حکمران کچھ نہیں کر رہے۔ ہم اپنی عزت اور اپنے بچوں کی خاطر جرگے بلائیں گے۔ ہمارا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے سے بھرے 14 ٹرک جلا دیے گئے، جبکہ ان کے لیے 95لاکھ روپے دیے گئے۔ یہ پیسے سرفراز کو چاہییں یا اس کے سیکرٹری کو چاہییں ہم چندہ کر کے خزانے میں جمع کرا دیں گے مگر ہمیں اپنی لاریوں کی پوری قیمت چاہیے۔ یہ جو اوپر کی کمائی یا رشوت وزرا، سیکرٹریز اور دیگر لوگ کما رہے ہیں، ان کی ایک دن کی رشوت سے ان تمام لوگوں کے نقصانات پورے ہوسکتے ہیں جن کی بسیں یا گاڑیاں جلائی گئی ہیں۔ تفتان کے راستے یہاں گیس لانے پر پابندی ہے۔ اگر معاملات اسی طرح چلتے رہے تو ہم کم از کم اپنے لوگوں سے یہ ضرور کہیں گے کہ جہاں آپ کی زندگی کو خطرہ ہو، وہاں کسی کے حکم پر نہ جائیں۔ پاکستان کو چلانے کا واحد راستہ آئین کی بالادستی، شفاف انتخابات، پارلیمنٹ کی بالادستی، اور ہر قوم کے وسائل پر ان کے بچوں کا حق تسلیم کرنا ہے۔ اس طرح کا پاکستان بہترین انداز میں چل سکتا ہے۔ ایسے پاکستان کو چلانے کے لیے ہم تعاون کرسکتے ہیں۔ ہمیں صرف آئین کی بالادستی، آزاد پریس اور آزاد عدلیہ دے دیں، یہ پاکستان چل جائے گا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ و چیئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کے اردگرد اور پاکستان کے اندر کے حالات ایسے ہیں کہ گلگت بلتستان اور کشمیر میں جو حالات ہیں ان پر لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ نام کی پارلیمنٹ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیاں موجود ہیں، لیکن ان تمام معاملات میں نہ اسمبلیوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور نہ ہی عوام کو بتایا گیا ہے کہ ان حالات میں ہمیں کیا کرنا ہے اور ہمیں کس طرف جانا ہے۔ ان حالات میں، بہ امر مجبوری، کشمیر میں جو کچھ ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔ ہفتوں سے وہاں کے لوگ اپنے جمہوری مطالبات کے لیے مارچ کر رہے تھے۔ اس مارچ کو روکنے یا تشدد سے بچانے کے لیے تحریک تحفظ آئینِ پاکستان اور دوسری سیاسی جماعتوں نے، مولانا فضل الرحمن سمیت، کوشش کی کہ وہاں جا کر لوگوں سے ملیں اور ایسا راستہ نکالیں کہ جلوس، تشدد اور بربادی نہ ہو، مگر ہمیں وہاں جانے نہیں دیا گیا اور ہمارے لیے تمام راستے بند کر دیے گئے۔گزشتہ رات لوگوں نے بتایا کہ 35کے قریب افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں بعض ویڈیوز میں سڑکوں پر لوگ اس طرح مرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں جس طرح پرندوں پر گولیاں چلائی جاتی ہیں، اسی طرح لوگوں پر بھی گولیاں چلائی گئیں۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور تحریک تحفظ آئینِ پاکستان اس بربریت کی انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہیں۔ بلکہ پاکستان بھر کے وہ تمام لوگ، جو رول آف لا، جمہوریت اور انسانی حقوق پر یقین رکھتے ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی پارٹی یا مسلک سے ہو، انہیں کشمیر سمیت جہاں بھی عوام کے حقوق کی بات ہو رہی ہے، وہاں کے لوگوں کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے اور اس بربریت کی مذمت کرنی چاہیے۔ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی سیاست قلاتی بلوچستان یا برٹش بلوچستان میں 1929میں، 22سال کی عمر میں شروع ہوئی جبکہ ان کا نہ کوئی استاد، نہ پارٹی اور نہ ہی کوئی تنظیم تھی۔ 1929میں انہوں نے دو چار آدمیوں کے ساتھ مل کر انگریزی حکومت اور قبضے کے خلاف اپنے عوام اور لوگوں کو منظم کرنے کی کوشش کی، اور زندگی کے آخری دم تک ان کے نظریات جمہوریت پر مبنی رہے اور وہ جمہوریت ہی چاہتے تھے۔اس سلسلے میں ابتدا انہوں نے مسجد میں قرآنِ کریم کی چند آیات کی تلاوت سے کی۔ شاید مسجد کے عالمِ دین سے بھی ان کی بات ہوئی ہو۔ دوسرے دن ڈپٹی کمشنر کوئٹہ پشین، یا جو بھی پولیس افسر، آئی جی پولیس یا متعلقہ افسر تھا، وہ گاﺅں پہنچا۔ وہاں گاﺅں والوں کو بلایا گیا اور پوچھا گیا کہ کل رات تمہاری مسجد میں کیا بات ہوئی تھی۔ انگریز کا انٹیلی جنس نظام اتنا مضبوط تھا کہ پچیس میل دور رات کو مسجد میں ہونے والی بات کا بھی انہیں پتہ چل گیا تھا۔ لوگوں سے پوچھا گیا کہ کیا بات ہوئی تھی؟ جواب ملا کہ عبدالصمد نے قرآنِ کریم کی چند آیات پڑھی تھیں اور ان کا ترجمہ کیا تھا۔ اس پر کہا گیا کہ یہ کام تو مولویوں کا ہے۔ لوگوں نے جواب دیا کہ عبدالصمد مولوی بھی ہے، علمِ فاضل ہے اور قرآنِ کریم کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرچکا ہے۔ اس کے باوجود انہیں باقاعدہ وارننگ دی گئی کہ آئندہ ایسی بات کبھی نہ ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تیسرے دن، شاید اس کا نام رنگیٹ تھا، جو پولیٹیکل ایجنٹ تھا، وہ ان کے گاﺅں آیا اور انہیں بلایا۔ خان شہید اپنے الفاظ میں فرماتے ہیں کہ اس نے مجھ سے کہا "میں بحیثیت ایک انگریز، جب جوان تھا تو سوشلسٹ تھا اور اپنے ملک میں مزید اصلاحات کے لیے کام کرنا چاہتا تھا اس لیے مجھے معلوم ہے کہ یہ کام تعلیم یافتہ لوگوں کو کرنا چاہیے لیکن بحیثیت ایک حاکم، ان حالات میں ہم برٹش بلوچستان میں کسی قسم کی سیاست کے روادار نہیں ہیں۔ "خان شہید فرماتے ہیں کہ میں نے کہا، "ہم کوئی غلط بات تو نہیں کر رہے۔ ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ اگر اصلاحات ہونے والی ہیں تو پورے ہندوستان کی طرح برٹش بلوچستان کو بھی ان اصلاحات میں حصہ دیا جائے اور اسے گورنر کا صوبہ بنایا جائے۔ "اس کے بعد انہوں نے اپنی جماعت انجمن وطن بنائی، جس میں برٹش بلوچستان کے علاوہ بگٹی، مری، مچ، ہمارے محترم عزیز کرد صاحب، نوشکی کے میر گل خان نصیر وغیرہ بھی شامل تھے۔ یہ سب انجمن وطن کے ممبر تھے اور اس بات پر عبدالصمد خان اچکزئی اور ان کی جماعت سے متفق تھے کہ برٹش بلوچستان کو گورنر کا صوبہ بنایا جائے۔ اس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔ اسی قرآنِ مجید والے واقعے میں تین آدمیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں ان کے بڑے بھائی محمد ایوب خان اچکزئی بھی تھے، جو بعد میں کابل میں وفات پا گئے۔ جب انہیں گرفتار کر کے لے جایا گیا تو علاقے کے لوگوں نے، جیسا کہ پہاڑی علاقوں کی روایت ہے، کوژک پاس پر اچکزئی قبیلے کے مختلف سیکشنز کے تقریبا بیس سے پچیس افراد نے راستہ بند کر کے دو فرنگیوں اور ایک عورت کو اغوا کرلیا اور وہاں ایک چٹ چھوڑ دی۔ یہ سیاست کے لیے پہلا اغوا تھا۔ اس چٹ میں لکھا گیا تھا کہ اگر ہمارے خوانین کو چھوڑ دیا جائے تو کیپٹن اور اس کی بیوی کو بھی چھوڑ دیا جائے گا۔ یہیں سے اس سلسلے کی ابتدا ہوئی۔ بعد ازاں انگریزوں نے کابل پر دباﺅ ڈال کر انہیں واپس بلا لیا۔ پھر ان تینوں پر یہ الزام لگایا گیا کہ اغوا کا منصوبہ انہوں نے بنایا تھا۔ پہلی مرتبہ انہیں دو سال قید اور آئندہ تین سال کے لیے ضمانت کی سزا دی گئی۔ یوں اس صوبے کی سیاست کا آغاز ہوا۔ برٹش بلوچستان 1886میں بنایا گیا۔ یعنی ڈیورنڈ لائن سے تقریبا سات سال پہلے برٹش بلوچستان وجود میں آیا۔ تفصیل بہت طویل ہے۔ برٹش بلوچستان کے لیے خان آف قلات سے بعض علاقے لیز پر لیے گئے، جن میں نوشکی، چاغی، پٹ فیڈر کا علاقہ، جمالی، کھوسو، مری اور بگٹی کے علاقے شامل تھے۔ باقی تمام پشتون علاقے بھی برٹش بلوچستان کا حصہ تھے۔ اس جماعت کے مقاصد یہ تھے کہ برٹش بلوچستان کو گورنر کا صوبہ بنایا جائے اور باقی ہندوستان کی طرز پر یہاں بھی اصلاحات کی جائیں۔ اس وقت تک صوبہ سرحد، یعنی موجودہ خیبر پختونخوا، سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا تھا بلکہ پنجاب کا حصہ تھا۔ 1902میں اسے چیف کمشنر کا صوبہ بنایا گیا اور 1935میں گورنر کا صوبہ بنایا گیا۔یہی عبدالصمد خان اچکزئی کی سیاست کے مقاصد تھے، پاکستان بننے تک۔ انجمن وطن تمام علاقوں کے لوگوں کی جماعت تھی۔ بعد ازاں اگرچہ انہوں نے بلوچ علاقوں میں باقاعدہ شاخیں نہیں بنائیں، تاہم سرداروں کے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف لوگوں میں شعور بیدار کرنے میں ان کا بڑا کردار تھا، جس کی تفصیل بہت طویل ہے۔1947کے بعد انجمن وطن ماند پڑ گئی، پھر نیشنل عوامی پارٹی بنی، اور اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ لسانی بنیادوں پر پانچ قومی پاکستان بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ بنگال، سندھ، بلوچستان، پنجاب اور پشتونخوا یا پشتونستان۔ بدقسمتی سے ہماری پارٹی آخری وقتوں میں اپنے آئین سے انحراف کر گئی اور عبدالصمد خان اچکزئی اور ان کے دیرینہ ساتھیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔ یہ صوبہ بنا تو عبدالصمد خان اچکزئی نے اس کی مخالفت اس بنیاد پر کی کہ ہمارے بنگالی، پشتون، سندھی، بلوچ، ہم سب اس بات پر متفق تھے کہ سارا پشتون علاقہ ایک یونٹ میں آئے گا، بلوچ ایک یونٹ میں ہوں گے، سندھی علیحدہ ہوں گے، پنجابیوں کا اپنا صوبہ ہوگا اور بنگال کا اپنا صوبہ ہوگا۔ انہی اختلافات کی وجہ سے دوست ایک دوسرے کے مخالف ہوئے۔ یہاں ہم نے کوشش کی، عبدالصمد خان نے بھی یہی کوشش کی کہ ایسا کوئی فارمولا نکل آئے کہ یہی صوبہ کسی طریقے سے مساوات اور برابری کی بنیاد پر چل پڑے۔ پھر 1977میں خان آف قلات یہاں کے گورنر ہوئے۔ وہ چونکہ حالات سے آگاہ تھے، اس لیے انہوں نے ایک فارمولا پیش کیا کہ اس صوبے کو چلانے کے لیے یہی طریقہ زیادہ بہتر رہے گا کہ بلوچ یا براہوی، جو بھی بلوچ علاقوں میں ہیں، ان کا پچاس فیصد حصہ ہو، چالیس فیصد پشتون ہوں، جبکہ دس فیصد کوئٹہ کے رہنے والے ہزارہ، پنجابی اور دیگر آبادکار ہوں۔ یعنی یہ ففٹی ففٹی کا فارمولا تھا، مگر اسے بھی ہمارے جان بلوچ سیکرٹری نے ختم کردیا۔ پہلی غلطی اور پہلی بات، جس پر ہمیں اپنے ساتھیوں سے گلہ ہوا، یہ تھی کہ 1974 میں پہلی مرتبہ جب یہاں سیاسی حکومت بنی تو پاکستان کے سب سے چھوٹے ضلع، کوئٹہ پشین، کو تقسیم کر دیا گیا۔ 1974 میں رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے چھوٹے ضلع کوئٹہ پشین کو تقسیم کیا گیا، حالانکہ اس کا کسی نے مطالبہ یا ڈیمانڈ نہیں کیا تھا۔ باقی جو بلوچ علاقوں کے اضلاع تھے، نواب صاحبان کے علاقے تھے، جو تین تین سو میل لمبے اور دو دو سو میل چوڑے تھے، انہیں کسی نے نہیں چھیڑا۔ اس اقدام کو پشتونوں نے، جبکہ اس وقت عبدالصمد خان اچکزئی زندگی کی بازی ہار چکے تھے، پشتونوں کو کوئٹہ سے دور کرنے کی کوشش قرار دیا اور اسی تعبیر کی بنیاد پر تحریک چلی۔ چار پانچ مہینے لوگ جیلوں میں جاتے رہے۔ بات بہت طویل ہے، حتی کہ مجبورا ذوالفقار علی بھٹو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئٹہ پہنچے۔اس میٹنگ میں سب موجود تھے۔ بھٹو صاحب نے ہم لوگوں سے کہا کہ اگر آپ یہ تحریک ختم کر دیتے ہیں تو میں پشین کا آدھا حصہ، یعنی تحصیل کاریزات، کوئٹہ میں شامل کر دوں گا اور اگر آپ یہ نہیں کرتے تو پھر میں اپنی طرف سے آرڈیننس جاری کروں گا کہ اس طرف سے کوئی علاقہ کوئٹہ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ یہ بھٹو کا حکم تھا۔ اس پر ہماری تحریک، اگرچہ ہم اس سے متفق نہیں تھے، ختم کر دی گئی۔عبدالصمد خان اچکزئی کا لوکل کوئٹہ پشین تھا۔ میں بھی کوئٹہ پشین کا لوکل ہوں، میرے سارے بھائی بہن بھی کوئٹہ پشین کے لوکل ہیں، لیکن پشین کا علاقہ ہونے کے بعد اب پتہ نہیں کیا ضرورت پڑ گئی کہ پھر وہی تماشے ہو رہے ہیں۔ میں اس پر کچھ نہیں کہتا۔برٹش بلوچستان ایک الگ علاقائی اکائی (Entity)ہے اور باقی بلوچستان بھی ایک الگ علاقائی اکائی ہے۔ ہمارے ہاں بگٹی، مری، نوشکی، چاغی اور دیگر علاقے ہیں۔ ہمارے پشتون، بلوچ اور براہوی بھائی ہیں، ان کے لیے جو کچھ آپ بنانا چاہتے ہیں، بنائیں، لیکن ہمارے معاملات میں ادھر کا مسئلہ یہاں اور یہاں کا مسئلہ ادھر نہ پھینکیں۔ یہ ہماری بھائی چارگی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔پارٹی اس پر اپنا لائح عمل دے سکتی ہے، اور دے سکتی تھی، لیکن چونکہ پورے خطے کے حالات بہت خطرناک ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ تمام پشتون، جو پشتونخوا وطن کے علاقے میں آباد ہیں، نواب صاحب کی رہبری میں ایک جرگہ بلائیں۔ یہ جرگہ تین دن پر مشتمل ہوگا، جس میں ہم اپنے عوام کے سامنے ان تمام مشکلات کا ذکر کریں گے۔2022میں بنوں میں پشتونوں کا ایک بڑا جرگہ ہوا تھا۔ اس وقت دہشت گردی کی ایک بہت بڑی لہر تھی۔ ہزاروں لوگ مارے گئے تھے، امام بارگاہوں میں بم دھماکے ہو رہے تھے، ہر جگہ بہت برے حالات تھے۔ ہمارے بڑے بڑے قبائلی عمائدین مارے گئے تھے۔ چیچن، ازبک اور نہ جانے کون کون وزیرستان آ گئے تھے۔ حالات انتہائی خراب تھے۔اسی نئی لہر میں تیراہ کے آفریدیوں کو ہزاروں کی تعداد میں ٹرکوں میں بھر کر اپنے گاں سے نکال دیا گیا۔ نہ معلوم وہ کہاں گئے اور کہاں نہیں گئے۔ادھر بلوچستان میں بعض بلوچ گروہوں کی طرف سے ریاستِ پاکستان کے خلاف لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔ دونوں طرف مالی اور جانی نقصانات ہو رہے ہیں، اور اس کے یہاں رہنے والے پشتونوں پر بھی برے اثرات پڑ رہے ہیں۔ نہ ہمارے لوگوں کی لاریاں محفوظ ہیں، نہ ہماری بسیں محفوظ ہیں، نہ ان کی عزت محفوظ ہے۔ہرنائی کوسٹ پر، جہاں کوئلے کے مزدور کام کرتے ہیں، سینکڑوں مزدور مارے گئے۔ ان کا قصور کیا تھا؟ وہ کہاں کے رہنے والے تھے؟ نہ کسی نے ذمہ داری قبول کی، نہ کسی کو گرفتار کیا گیا۔ بس جس طرح پرندے یا حشرات مار دیے جاتے ہیں، ویسا ہی ان کے ساتھ ہوا۔اب جو کچھ وہاں ہوا، جہاں دھرنا تھا، اگر کوئی آدمی لیویز، پولیس یا کسی اور محکمے سے تنخواہ لیتا ہے تو اس کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ جہاں اسے ڈیوٹی دی جائے وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ آپ نے لوگوں کو ایسی جگہ بھیج دیا جہاں کچھ بھی موجود نہیں تھا۔ نہ پانی کا ٹینکر تھا، نہ پانی تقسیم کرنے کا کوئی انتظام تھا۔ آخر لوگ کیسے مر گئے؟ کس نے مارا؟ کیسے مارا؟یہ مقام کوئٹہ سے بالکل قریب ہے، اگر فضائی راستے سے دیکھا جائے تو شاید دس کلومیٹر بھی دور نہیں۔ یہاں چھانی ہے، ہیلی کاپٹر ہیں، جہاز ہیں، نہ جانے کیا کچھ موجود ہے۔ متعلقہ افسروں نے پوری کوشش کی، انہوں نے اطلاع دی کہ ہمارے پاس عملہ کم ہے، کارٹوس کم ہیں، مہربانی کرکے ہمیں امداد دی جائے، مگر یہاں سے کچھ نہ ہو سکا۔ پھر اپنے خاندانوں کو بھی اطلاع دی گئی، لیکن کسی نے کوئی پرواہ نہیں کی، اور سب لوگ مار دیے گئے۔نہ کسی نائب تحصیلدار نے استعفیٰ دیا، نہ کسی اے سی نے، نہ کسی ڈی سی نے، نہ کسی ہوم سیکرٹری نے، نہ کسی سیکرٹری نے، نہ کسی وزیرِ اعلی نے استعفی دیا، نہ کسی کو نوکری سے نکالا گیا اور نہ ہی کسی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔بالکل اسی طرح جیسے پشاور کے پبلک اسکول میں سینکڑوں بچوں کو مار دیا گیا تھا اور اس کی بھی کوئی مثر تحقیقات نہیں ہوئیں۔ یہاں سول ہسپتال میں وکیلوں کے درمیان دھماکے ہوئے، جن میں وکیلوں سمیت تقریبا ستر افراد جاں بحق ہوئے۔ سریاب میں پولیس سینٹر پر حملہ ہوا، لوگ مارے گئے۔اب موجودہ حکومت جو چالاکیاں کر رہی ہے، یہ لوگوں کے ساتھ مذاق ہے، ہمارے لوگوں کی عزت و احترام کے ساتھ مذاق ہے۔ افسر، وکیل اور ہمارے جج مارے جاتے ہیں، کیا یہ کسی ریاست کی علامت ہے؟ہم پارٹی کی حیثیت سے صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسا ہونا چاہیے یا ایسا نہیں ہونا چاہیے، مگر حقیقت یہ ہے کہ دن دہاڑے درجنوں گاڑیاں جلائی گئی ہیں، اس شاہراہ پر جس پر ہم سفر کرتے ہیں بسوں کو آگ لگائی جاتی ہے، لوگوں کو مارا جاتا ہے، ان کی بے عزتی کی جاتی ہے، مگر کوئی بھی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔
پاکستان میں پشتونوں پر زندگی تنگ ہے، بلوچ گروہ پشتونوں کو قتل، گاڑیاں جلا دیتے ہیں، محمود اچکزئی
