ماخذ: یو این اے
نصیر آباد (یو این اے) ڈیرہ مراد جمالی مین روڈ جتک چوک کے مقام پر 11 ہزار کے وی (KV) بجلی کا تار گرنے کے باعث اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث دیکھتے ہی دیکھتے خان محمد تنیو کے دکان سمیت پانچ دکانوں کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے نتیجے میں دکانوں میں موجود لاکھوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا، جبکہ متاثرہ دکانداروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔متاثرہ دکانداروں نے واپڈا (کیسکو)کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اسی مقام پر اس سے قبل بھی 11 ہزار کے وی کا تار دو سے تین مرتبہ گر چکا تھا، تاہم متعلقہ عملے نے مستقل بنیادوں پر مسئلہ حل کرنے کے بجائے ہر مرتبہ عارضی طور پر تار کو جوڑ کر بجلی بحال کردی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مستقل نوعیت کے حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو آج یہ افسوسناک واقعہ پیش نہ آتا اور دکاندار لاکھوں روپے کے نقصان سے بچ سکتے تھے۔ جبکہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی میونسپل کمیٹی ڈیرہ مراد جمالی کے بابو اصغر رند اور تھانہ سٹی ڈیرہ مراد جمالی کے ایس ایچ او عبدالرف جمالی اپنی ٹیموں کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے مقامی شہریوں کے تعاون سے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پایا، جس کے باعث آگ مزید دکانوں تک پھیلنے سے رک گئی اور قریبی متعدد دکانیں بڑے نقصان سے محفوظ رہیں۔متاثرہ دکانداروں اور شہریوں نے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور کیسکو کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے ۔متاثرین کے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے اور شہر بھر میں خستہ حال بجلی کی لائنوں کی مستقل بنیادوں پر مرمت اور تبدیلی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
