کیرتھر کینال میں پانی کی عدم فراہمی کیخلاف بلوچستان کے آبادگاروں کا 18 جولائی کو سکھر بیراج پر دھرنے کا اعلان

اوستہ محمد (یو این اے) کیرتھر کینال کے ذریعے بلوچستان کو زرعی پانی کی عدم فراہمی کے خلاف سندھ حکومت اور محکمہ آبپاشی سندھ کیخلاف احتجاجی تحریک تیز ہوگئی۔ قبائلی شخصیت اور زمیندار میر محسن خان شہلیانی جمالی کی قیادت میں بلوچستان کے سینکڑوں زمیندار اور کاشتکار 18 جولائی کو سکھر بیراج پر دھرنا دیں گے، جس کے لیے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ دھرنے میں شرکت کے لیے مختلف علاقوں کے زمینداروں اور کاشتکاروں سے رابطہ مہم مکمل کر لی گئی ہے۔ اس موقع پر نوجوان زمیندار رہنما میر محمد شریف خان پندرانی نے یو این اے سے گفتگو کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سندھ طویل عرصے سے بلوچستان کے حصے کا پانی روک رہا ہے، جس کے باعث صوبے کا زرعی گرین بیلٹ بنجر ہونے کے خطرے سے دوچار ہے اور کاشتکار شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے آبادگار مزید ناانصافی برداشت نہیں کریں گے اور اپنے آئینی و قانونی حق کے حصول کے لیے ہر سطح پر جدوجہد کریں گے۔ ان کے مطابق 18 جولائی کو سینکڑوں زمیندار اور کاشتکار سکھر بیراج پر بھرپور احتجاج کریں گے اور مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔