کراچی: پاکستانی ٹیم کو بھارت سے 4 ماہ میں چوتھی شکست کا سامنا کرنا پڑا، وائٹ بال فارمیٹ میں قومی ٹیم نے روایتی حریف سے 16میں سے 13میچ ہارے، جس پر عوام مایوس ہیں اور سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ ہمارا کرکٹ سسٹم کب بہتر ہوگا؟
بھارت کی ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کے خلاف مسلسل آٹھویں فتح، چیمپئنز ٹرافی فائنل کے بعدقومی ٹیم نے روایتی حریف کیخلاف آخری میچ چار ستمبر2022کو دبئی میں جیتا ،کپتانوں میں مصافحہ پھر نہ ہوسکا۔
اتوار کو کولمبو میں ہونے والے پاک بھارت میچ کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ پاکستان کے چار بولروں سلمان آغا، عثمان طارق، محمد نواز اورصائم ایوب نے 14اوورز میں مجموعی طور پر 87 رنز دیئے جبکہ تین بولروں شاہین شاہ آفریدی، ابرار احمد اور شاداب خان نےچھ اوورز میں 86 رنز دیئے جو پاکستان کی ہار کا سبب بنے۔
فہیم اشرف کو کپتان نے مسلسل تیسرے میچ میں بولنگ نہیں دی۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم حالیہ سالوں میں بھارت کے خلاف وائٹ بال فارمیٹ میں بدترین کارکردگی دکھاکر مسلسل شکستوں سے دوچار ہورہی ہے جس سے پاکستان کے کرکٹ نظام پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
