بلوچستان کی بگڑتی صورتحال اور حکومتی کارکردگی انتہائی تشویشناک شکل اختیار کرچکی، قومی مفاہمتی پالیسی ناگزیر ہے، ڈاکٹر مالک بلوچ

کوئٹہ ، اسلام آباد (بلوچستان نیوز) نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی بلوچستان کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر سیاسی رہنماﺅں سمیت مختلف شخصیات سے ملاقات۔ اس حوالے سے ڈاکٹر مالک نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان رکن صوبائی اسمبلی عبدالمالک بلوچ کی وفد کے ہمراہ ملاقات، ملاقات میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ، سینیٹر جان محمد بلیدی، رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ، رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ اور نیشنل پارٹی پنجاب کے صدر ایوب ملک بھی شامل تھے۔ ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال اور ملک میں امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ گفتگو میں بلوچستان میں کوئٹہ میں دیے گئے زیارت سانحہ کیخلاف دھرنے اور دیگر مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر مالک بلوچ نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال بالخصوص بلوچستان کے مخدوش حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سینیٹر مولانا عطاءالرحمن، سینیٹر مولانا عطاءالحق درویش موجود تھے۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر مالک بلوچ نے سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سے بھی ملاقات کی ان کے ہمراہ سینیٹر جان محمد بلیدی، پنجاب کے صدر ملک ایوب اور نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر ظفر مرزا بھی موجود تھے۔ ملاقات میں ملکی صورت حال اور بلوچستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماﺅں نے بلوچستان کی بگڑتی صورتحال اور حکومتی کارگردگی پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اس کا حل بھی سیاسی ہے، بلوچستان میں قومی مفاہمتی پالیسی کی ضرورت ہے، اور بلوچستان کے سیاسی و قومی قیادت کی سیاسی اسپیس کو بحال کرنے کی ضرورت ہے، عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے بڑے پیمانے پر سیاسی ریفارم کرنے اور بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دینے کی ضرورت ہے۔