ہرنائی میں افغان مہاجرین کے سرکاری ملازمتوں پر کام کرنیکا انکشاف، سماجی حلقوں کا فوری کارروائی کا مطالبہ

افغان مہاجرین

ہرنائی (بلوچستان نیوز) وفاقی وزیر داخلہ، صوبائی وزیر داخلہ، چیئرمین نادرا اور ایف آئی اے سے ضلع ہرنائی میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف ملک کے دیگر صوبوں کی طرح کارروائی کی اپیل۔ پاک ویلفیئر سوسائٹی کے جاری کردہ بیان میں وفاقی وزیر داخلہ، صوبائی وزیر داخلہ، چیئرمین نادرا اور ایف آئی اے سے اپیل کی گئی ہے کہ ضلع ہرنائی میں بھی ملک کے دیگر صوبوں کی طرح افغان مہاجرین کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع ہرنائی میں سینکڑوں افغان مہاجرین نے ضلع ہرنائی کے مقامی لوگوں کے خاندانوں میں شامل ہو کر شناختی کارڈ اور لوکل سرٹیفکیٹ بنائے ہیں اور وہ باقاعدہ سرکاری ملازمتوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی ادارے ان غیر قانونی طریقے سے مقامی لوگوں کے خاندانوں میں شامل ہونے والے افغان مہاجرین کے خلاف سخت قانونی کارروائی کر کے انہیں ملازمتوں سے برطرف کر کے پاکستان سے بے دخل کیا جائے اور سرکاری ملازمتوں کے دوران جو سرکاری مراعات لی گئی ہیں وہ بھی ان سے واپس لی جائیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہرنائی سٹی اور دیہی علاقوں میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں لوگ کوئٹہ سے ہرنائی میں شفٹ ہو کر آباد ہوئے ہیں، کیونکہ ہرنائی میں افغان مہاجرین کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں ہوئی اور نہ ہی غیر قانونی طریقے سے پاکستانی قومی شناختی کارڈ بنانے والے افغان مہاجرین کے خلاف کوئی اقدام اٹھایا گیا ہے۔ پاک ویلفیئر سوسائٹی نے حکومت پاکستان اور وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع ہرنائی میں غیر قانونی طریقے سے بنائے گئے شناختی کارڈ بلاک کر کے اور ملازمتوں سے برطرف کر کے ان کے خلاف ملکی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔

خدا بخش منگی
رپورٹر
خدا بخش منگی

خدا بخش منگی (کے بی منگی) روزنامہ بلوچستان نیوز کے نامہ نگار ہیں اور ضلع نصیرآباد، ڈیرہ مراد جمالی سے خبریں رپورٹ کرتے ہیں۔