ماخذ: آن لائن
کوئٹہ (آن لائن) نصیر آباد محکمہ واٹر مینجمنٹ کرپشن کیس اینٹی کرپشن عدالت نے ٹھیکیدار اور ڈپٹی ڈائریکٹر کو 9 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی مقدمہ ٹھیکیدار اور ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ نصیر آباد کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ خصوصی عدالت انسداد بدعنوانی بلوچستان کوئٹہ کے جج نجیب اللہ خان کاکڑ نے مقدمہ نمبر 03/2025 بابت ایف آئی آر نمبر 01-N/2024 تھانہ اینٹی کرپشن بلوچستان میں ٹھیکیدار اور ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ نصیر آباد کے خلاف جرم ثابت ہونے پر فیصلہ سنا دیا ہے۔ معزز عدالت اینٹی کرپشن بلوچستان نے آج دونوں ملزمان کے خلاف ٹرائل مکمل ہونے پر جرم ثابت ہونے پر سزا سناتے ہوئے دونوں ملزمان کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ سزا پانے والے مجرمان کے نام1۔ عبدالقدوس مینگل ولد میر آزاد خان، ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ نصیر آباد2۔ عبدالمجید ولد مراد بخش، ٹھیکیدار معزز عدالت نے ہر مجرم کوتعزیرات پاکستان کی دفعہ 420 کے تحت 2 سال قید بامشقت اور 10,000 روپے جرمانہ، عدم ادائیگی پر مزید 2 ماہ قیداور انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت 7 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ فیصلے کے فوری بعد دونوں مجرمان کو عدالت کے حکم پر گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں سے انہیں سینٹرل جیل مچھ منتقل کیا جائےگا ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نصیب اللہ کاکڑ نے اس کامیابی پر تفتیشی ٹیم کو سراہا اور کہا کہ کرپٹ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کاروائیاں جاری رہیں گی۔
