ماخذ: یو این اے
کوئٹہ (یو این اے) بلوچستان صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے اقدام پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ آئین پاکستان میں صرف آرٹیکل 232 اور 234 ہی شامل نہیں ہیں بلکہ آرٹیکل 1(ون)بھی موجود ہے جس کا احترام لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب اس بات پر خوش ہیں کہ ملک میں جمہوریت قائم ہے، مگر جمہوری اداروں کے خلاف ایسے فیصلے جمہوریت کو کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بدامنی کا سلسلہ افغان انقلاب کے دور سے شروع ہوا تھا اور اس وقت صف بندی ہمارے اپنے نام نہاد "طرم خانوں” نے کی تھی جس کا خمیازہ قوم آج تک بھگت رہی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج خیبر پختونخوا کو اپنی فیڈریشن سے دور کیا جا رہا ہے اور انہیں شدید خدشہ ہے کہ یہ سلسلہ صرف کے پی کے تک محدود نہیں رہے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات تھیں کہ ایمرجنسی پہلے بلوچستان میں لگنے والی تھی، اور اب خدشہ ظاہر ہوتا ہے کہ پورے ملک میں بھی ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے کیونکہ بدقسمتی سے عوام سے ان کے حقیقی اختیارات چھین لیے گئے ہیں۔
