بلوچستان اسمبلی اجلاس، وزیراعلیٰ نے پیٹرولیم لیوی پر قرار داد ذاتی طور پر مسترد کردی، رائے شماری کے بعد منظور

بلوچستان اسمبلی اجلاس

ماخذ: آن لائن

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو 40منٹ کی تاخیر سے سپیکرکیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔بلوچستان اسمبلی نے بصارت اور سماعت سے محروم بچوں کو تعلیم و ہنر ، خودانحصاری اور باعزت روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنے ،2026-27کے پی ایس ڈی پی میں ضلع واشک میں ٹراما سینٹر کے قیام سے متعلق دو قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلیں،جبکہ اسمبلی ارکان پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی و دیگر مدات میں وصولیاں بند ، لیوی کی کمی پورا کرنے کیلئے مالی وسائل کے موثر شفافیت اور کفایت شعار استعمال یقینی بنانے کیلئے غیرضروری اخراجات و مراعات کا از سرنو جائزہ لینے ، مفت پیٹرول کی فراہمی ختم یا محدود کرنے کی قرارداد پر تقسیم ، اسپیکر کی جانب سے رائے شماری کرانے پر قرارداد منظور کرلی گئی۔ جمعیت علماءاسلام کے رکن سید ظفر علی آغا کی عدم موجودگی کے باعث ان کی جناح پیپلز ٹرین سروس کو یارو ریلوے اسٹیشن تک توسیع دینے ، یارو سے پشین تک 12 کلومیٹر نیا ریلوے ٹریک بچھانے سے متعلق قرارداد آئندہ اجلاس تک موخر کردی گئی۔ اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے اپنی اور وزیراعلی کی مشیر ڈاکٹر ربابہ بلیدی، اراکین اسمبلی شاہدہ رﺅف، فرح عظیم شاہ ، صفیہ بی بی اور سلمیٰ بی بی کی مشترکہ قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان معذور افراد کے حقوق کے تحفظ اور ان کی معاشرے میں موثر شمولیت کے لیے جامع قانون سازی کرنے والا پہلا صوبہ ہے جس نے بلوچستان معذور افراد کے حقوق کا ایکٹ 2017 نافذ کیا مذکورہ ایکٹ کا بنیادی مقصد معذور افراد کی مکمل اور موثر شمولیت ان کے حقوق کا تحفظ ، مساوی مواقع کی فراہمی اور انہیں معاشرے میں باعزت اور خودمختار زندگی گزارنے کے قابل اور تعلیم فنی و پیشہ ورانہ تربت روزگار معاون سہولیات اور ادارہ جاتی تحفظ فراہم کرنا تھا لیکن تاحال وہ ان سہولیات سے محروم ہیں چونکہ بصاورت اور سماعت سے محروم بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بریل معاون ٹیکنالوجی ، سمت شناسی اور نقل وحرکت کی تربیتی جیسی مخصوص سہولیات ناگزیر ہیں ان سہولیات تک بروقت اور یکساںرسائی ان بچوں کے مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ بصارت اور سماعت سے محروم بچوں کے لیے بریل سلیٹس ، بریل تعلیمی مواد ، اسکرین ریڈنگ، سافٹ ویئر ، معاون کمپیوٹرز اور اشاروں کی زبان پر مبنی تعلیمی مواد کی فراہمی کو موجودہ سرکاری پروگراموں کے ذریعے یقینی بنایا جائے ساتھ ہی اساتذہ کی تربیت کے موجودہ نظام میں بریل سے متعلق عملی تربیت کو باقاعدہ شامل کیا جائے مزید براں بی ٹیوٹا کے ذریعے بصارت اور سماعت سے محروم نوجوانوں کے لیے کمپیوٹر لٹریسی ، ٹرانسکرپشن ، سلائی دستکاری، اور دیگر قابل روزگار ہنرز پر مشتمل خصوصی فنی تربیتی پروگرام شروع کرنے کے بابت عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور بلوچستان معذور افراد کے حقوق ایکٹ کے تحت مقررہ 5فیصد ملازمتوں کے کوٹے پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ نگرانی اور رپورٹنگ کا نظام وضع کیا جائے تاکہ بصارت اور سماعت سے محروم بچوں کو تعلیم ،ہنر خودانحصاری اور باعزت روزگار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ معاشرے کے فعال ، بااختیار اور مفید شہری کی حیثیت سے اپنا بھر پور کردار ادا کرسکیں۔ قراردادکی موزونیت پر بات کرتے ہوئے شاہدہ رﺅف نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی نے 2017 میں خصوصی افراد کیلئے ملک میں پہلی مرتبہ قانون سازی کی مگر10سال گزرنے کے باوجوداس قانون سازی کا نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔ اس قانون سازی پرموثرعملدرآمدکویقینی بنایاجائے۔رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ نے اپنی تجاویزایوان میں پیش کرتے ہوئے ان پرعمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ پارلیمانی سیکرٹری سماجی بہبودحاجی ولی محمدنورزئی نے قراردادکی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت میں معذورافرادکی فلاح وبہبود کیلئے جتنے کام کئے گئے ہیں گزشتہ 70سال میں نہیں ہوئے ہیں ، قرارداد میں جن چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان پر پہلے ہی عملدرآمد ہورہا ہے۔ بعد ازاں ایوان نے قرارداد منظور کرلی۔ اجلاس میں جمعیت علمااسلام کے رکن زابد علی ریکی نے اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہاکہ ضلع واشک میں ٹریفک حادثات اور دیگر ہنگامی طبی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئی ٹراما سینٹر نہیں ہے اس بنیادی سہولت کے فقدان کے باعث شدید زخمیوں اور دیگر مریضوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم نہیں ہوپاتی اور انہیں طویل مسافت طے کرکے کوئٹہ منتقل کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے متعدد مریض راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں واضح رہے کہ ضلع واشک کا جغفرافیائی محل وقوع دور افتادہ ہونے اور طویل سفری فاصلے کے باعث ہنگامی طبی امداد سہولیات کی عدم دستیابی عوام کے لئے شدید مشکلات اور تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ 2026-27کے پی ایس ڈی پی میں ضلع واشک میں ٹراما سینٹر کے قیام اور تعمیر کو ترجحی بنیادوں پر شامل کرنے کو یقینی بنائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جاسکے اور عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات میسر آسکے۔ قرارداد کی موذونیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے وزیراعلی بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ ناگ اور بسیمہ کے درمیان ٹراما سینٹر قائم کیا جائے تاکہ حادثات کے نتیجے میں زخمیوں کو بروقت طبی سہولیات میسر آسکیں ، بعد ازاں ایوان نے قرارداد منظور کرلی۔ اسپیکر نے جمعیت علمااسلام کے رکن سید ظفر علی آغا کی عدم موجودگی کے باعث ان کی جناح پیپلز ٹرین سروس کو یارو ریلوے اسٹیشن تک توسیع دینے ، یارو سے پشین تک 12 کلومیٹر نیا ریلوے ٹریک بچھانے سے متعلق قرارداد آئندہ اجلاس تک موخر کردی۔اجلاس میں جماعت اسلامی کے رکن ہدایت الرحمن بلوچ نے توجہ دلانوٹس پیش کرتے ہوئے وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی توجہ مبذول کرائی کہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے تحت بلوچستان میں کل کتنے منصوبے شروع کئے گئے تھے اور ان میں کتنے منصوبے مکمل ہوچکے ، ہر مکمل منصوبے کا شعبہ ، لاگت ، شروع اور مکمل ہونے کی تاریخ نیز سی پیک فیز ٹو میں کون کون سے منصوبے بلوچستان میں شامل ہیں اور کب تک مکمل ہوں گے ، کی تفصیل سے آگاہ کیا جائے۔ صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی کی جانب سے صوبائی وزیر نور محمد دومڑ کی یقین دہانی پر اسپیکر نے توجہ دلا نوٹس نمٹادیا۔ جمعیت علمااسلام کے رکن زابد علی ریکی نے توجہ دلا نوٹس پیش کرتے ہوئے وزیر محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسٹیشن کی توجہ مبذول کرائی کہ واشک کو ضلع کا درجہ 2005 میں دیا گیا لیکن 22 سال کا عرصہ گزارنے کے باوجود ضلع واشک میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا کوئی دفتر اور نہ ہی کوئی ملازم ہے اور نہ یہی اس بابت کوئی خاطر خواہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں جوکہ ضلع واشک کے نام کے ساتھ سراسر زیادتی اور ناانصافی کے مترادف ہے لہذا ضلع واشک میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیسکیشن کا دفتر فعال نہ ہونے کی کیا وجوہات ہیں آگاہ کیا جائے۔ متعلقہ وزیر کی یقین دہانی پر توجہ دلانوٹس نمٹادیااجلاس میں جماعت اسلامی کے رکن مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے اپنی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز پاکستان میں ایک جانب مہنگائی نے عام شہریوں کے لئے زندگی اجیرن بنادی ہے تو دوسری جانب امریکہ ایران تنازعہ کی وجہ سے مہنگے پیٹرولیم مصنوعات نے لوگوں کی زندگی مزید مشکل بنادی ہے ، واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے اصل قیمت کے علاوہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر مدات میں وصولیاں افسوسناک ہیں ، ایک رپورٹ کے مطابق پٹرول کی اصل قیمت بمع کسٹم ڈیوٹی238 روپے بنتی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اس قیمت کے علاوہ پیٹرولیم لیوی 80 روپے ماحولیاتی لیوی 5 روپے سمیت مختلف مارجن کی مد میں 25 روپے وصول کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف پیٹرول ڈیزل مہنگا ہوا ہے بلکہ مہنگائی میں بھی اسی تناسب سے مزید اضافہ ہوا ہے۔ لہذا یہ ایوان حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ لیوی اور دیگر مدات میں وصولیاں بند اور لیوی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے مالی وسائل کے موثر شفافیت اور کفایت شعار استعمال کو یقینی بنانے کیلئے غیر ضروری اخراجات اور مراعات کا از سر نو جائزہ لیا اور مفت پیٹرول کی فراہمی ختم یا محدود کی جائے تاکہ اس مد میں ہونے والے اخراجات کو بچت میں تبدیل کرکے پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی متوقع کمی کو کسی حد تک پورا کیا جاسکے۔ قرارداد کی موذونیت پر بات کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ اس سے قبل سندھ اسمبلی سے یہ قرارداد منظور ہوچکی ہے جبکہ قرارداد کو بلوچستان اسمبلی میں موجود پارلیمانی جماعتوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جب این ایف سی ایوارڈ آرہا تھا تو سازش کے تحت پیٹرولیم لیوی کو قابل تقسیم پول سے نکالا گیا ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی کو قابل تقسیم پول کا حصہ بنایا جائے، وزیراعلی بلوچستان میر سرفرازبگٹی نے ذاتی حیثیت میں قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول پر لیوی وفاقی حکومت وصول اور استعمال کرتی ہے یہ ایک طرح کا ٹیکس کولیکشن ہے اور وفاقی حکومت نے پیٹرول لیوی کی مد میں حاصل رقم سے کوئٹہ کراچی شاہراہ جسے خونی شاہراہ کہا جاتا تھا کو دو رویہ کرنے کے منصوبے کا آغازکیا ، خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کو معاشی طور پر مستحکم ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو صوبوں میں شدید قسم کی دہشت گردی اور سرحدوں پر حالات کشیدہ ہیں ایسے میں اس قرارداد کی حمایت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ، سندھ اور کے پی کے حکومت نے قابل تقسیم پول سے ایک بڑا حصہ وفاق کو دیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ میں زاتی طور پر قرارداد کی مخالفت کرتا ہوں تاہم جو ایوان کی رائے ہو۔پاکستان مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر میرسلیم کھوسہ ، مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی سردارعبدالرحمن کھیتران ، وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے بھی قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے رکن اسمبلی ہدایت الرحمن بلوچ سے استدعا کی کہ وہ ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے اپنی قرارداد واپس لیں جبکہ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری ، جمعیت کے رکن اصغر ترین نے قرارداد کی حمایت کی۔ اس موقع پر اسپیکر نے کہا کہ ارکان کی جانب سے قرارداد کی حمایت اور مخالفت دونوں سامنے آئی ہیں ، انہوں نے قرارداد پر رائے شماری کرانے کی رولنگ دی جس پر قرارداد کی حمایت اور مخالفت میں گیارہ گیارہ اراکین نے ووٹ دیا تاہم بعد ازاں پیپلز پارٹی کے رکن صادق عمرانی کی جانب سے قرارداد کی حمایت پر قرارداد کو مطلوبہ اکثریت حاصل ہوئی جس پر قرارداد منظورکرلی۔ سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے نکتہ اعتراض پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ویٹرنری ملازمین کے سروس رولزنہیں بنے ، جس کی وجہ سے ان کی ترقی ممکن نہیں ہورہی ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسلے پر توجہ دے کر ان کے لئے سروس رولز بنائے جائیں، انہوں نے کہا کہ گوادرمیں بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں لوگوں کو اب تک مالکانہ حقوق حاصل نہیں ، وزیراعلی سے درخواست ہے کہ انہیں مالکانہ حقوق دیئے جائیں اسی طرح مری آباد میں بھی دہائیوں سے آباد لوگوں کے پاس مالکانہ حقوق نہیں، وزیراعلی یہ معاملہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ارسال کریں تاکہ میرٹ پر فیصلے ہوں اور لوگوں کو ان کاحق ملے، ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں قبائل کی لاکھوں ایکڑ اراضی محکمہ جنگلات کو الاٹ کی گئی ، محکمہ جنگلات کو وہاں بھی زمین الاٹ کی گئی ہے جہاں ریگستان ہیں آیا وہاں رئیر ارتھ منرلز ہیں جو چھپائی جارہی ہیں،وزیراعلی بلوچستان نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی رئیر ارتھ منرلز نہیں یہ جنگلات کی زمین ہے ، محکمہ جنگلات کی زمینیں آج کی نہیں بلکہ 1901 سے جنگلات کے نام پر ہیں، انہوں نے ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ سے کہا کہ آئندہ ہفتہ کسی دن کا تعین کریں حکومت اس پرانہیں مفصل بریفنگ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوے سال میں جوکام نہیں ہوا موجودہ حکومت نے تین سال میں کیا ہے، حکومت نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر اتفاق رائے پیدا کیا تاہم اپوزیشن کو تحفظات تھے ، اپوزیشن نے اپنا ڈرافٹ حکومت کو فراہم کردیا ہے ڈرافٹ کے 70 سے 80 فیصد نکات پر حکومت کواعتراض نہیں آئندہ ہفتہ اپوزیشن کے ساتھ اس ایکٹ پر بیٹھیں گے جو لوگ پارلیمنٹ میںنہیں ان کو بھی دعوت دینگے، انہوں نے کہا کہ یہ ایوان بلوچستان کا نمائندہ ہے جس میں پورے صوبے کی نمائندگی ہے حکومت کی روزاول سے کوشش رہی ہے کہ صوبے کے معاملات پراتفاق رائے پیدا کرے ، آگے بھی اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نشاندہی کرے اگر ہم کہیں غلط تھے تو یوٹرن لیں گے ، انہوں نے کہا کہ کہا گیا ہے کہ وزیراعلی بار بار معذرت کرتے ہیں اگر کسی رکن کی دل آزاری ہوتی ہے تو میں سو دفعہ معافی مانگوں گا، ہمیں ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن جب تک میں وزارت اعلی کی کرسی پر بیٹھا ہوں یہ نہیں ہونے دونگا کہ اس ایوان میں لوگ ایک دوسرے کے گریبان پکڑیں۔، جس کے بعد اسمبلی کا اجلاس پیر 12 اکتوبر سہ پہر 3بجے تک ملتوی کردیا گیا۔