امریکا اور صیہونی رجیم کی مسلحانہ حملوں کے ذریعے رہائشی علاقوں اور ایران کے غیر فوجی بنیادی ڈھانچے پر فوجی جارحیت کے چالیس دن گزرنے کے بعد اور برادر ملک پاکستان کی ثالثی سے متعدد پیغامات کے تبادلے کے بعد، اسلامی جمہوریہ ایران نے جنگ بندی کے لیے دس نکاتی شرائط کا اعلان کیا اور امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ان شرائط کو دو ہفتے کی جنگ بندی کے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کیا۔ ٹرمپ اپنی پہلی صدارت کے دور میں برجام جو بیس ماہ کی مذاکرات کا نتیجہ تھا، سے نکل گیا تھا اور اپنی دوسری مدت میں اس نے امریکہ ایران مذاکرات کے ذریعے اپنے طمع بھرے اور غیر منطقی مطالبات ایران پر مسلط کرنے کی کوشش کی۔ جون 2025ءمیں صیہونی رجیم اور امریکہ کی طرف سے ایران پر مسلط کی جانے والی 12 روزہ جنگ دراصل ایران کے عوام کی ان مطالبات کے سامنے مزاحمت کا نتیجہ تھا۔
ٹرمپ حکومت نے 12 روزہ جنگ کے بعد دوبارہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کا مطالبہ کیا اور اس بار عمان نے ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ افسوس کہ اس مرتبہ بھی صیہونی رجیم اور امریکہ نے جاری اور پیشرفت کی سمت جانے والے مذاکرات کو نظر انداز کرتے ہوئے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملہ کیا اور اس عسکری جارحیت کے پہلے دن رہبر معظم انقلاب اسلامی اور ہمارے متعدد سیاسی و عسکری حکام کو ان کی رہائش گاہ پر شہید کر دیا۔ عمان کے وزیر خارجہ کی گواہی کے مطابق یہ دور مذاکرات کے اچھے نتائج تک پہنچ چکا تھا اور ایران و امریکہ کے درمیان معاہدے کا سبب بن سکتا تھا۔ اس جنگ میں اسرائیل کی بچوں کو قتل کرنے والی اور نسلی امتیاز پر منبی (اپارتھائیڈ) رجیم اور امریکہ اپنے کسی بھی ہدف کو حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے میناب میں سکول پر حملہ کر کے تقریباً 170 بچوں کو شہید کیا اور جنگی جرم کا ارتکاب کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 620 تعلیمی مقامات بشمول جامعات اور تاریخی یادگاروں اور ایران کے بنیادی ڈھانچے بشمول ہسپتالوں، پلوں اور بجلی گھروں پر حملہ کیا اور کھلی دھمکی دی کہ وہ ایران یعنی ایک ایسا ملک جو پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کے حامل ہے کو دوبارہ پتھر کے دور میں واپس دھکیل دیں گے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنی علاقائی سالمیت کا بھرپور دفاع کیا اور اس مضبوط مزاحمت اور جارحیت کے مو¿ثر جواب میں مقبوضہ علاقوں کے قلب میں موجود اہداف، عسکری اڈوں اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا اور اسرائیل کے ”مکمل تحفظ“ کے تصور کو ختم کر دیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی جنگ کا آغاز کرنے والا نہیں رہا ہے، تاہم انقلاب اسلامی کے بعد اسے تین عسکری جارحیتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ایرانی عوام نے صدام، صیہونی رجیم اور امریکہ کی جارحیت کے خلاف اپنی پوری قوت سے ملک کی علاقائی سالمیت کا دفاع کیا ہے۔ ایران عالمی برادری کے ذمہ دار رکن اور خطے کے استحکام کا ستون ہونے کے ناتے ہمیشہ سفارت کاری اور مذاکرات کا خیرمقدم کرتا آیا ہے۔ اسی نقطہ نظر کے تحت، اسلامی جمہوریہ ایران کے وفد نے اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے مسلط کردہ غیر قانونی جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی کے مذاکرات میں شرکت کے لیے، پاکستان کا دورہ کیا۔ لیکن یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ امریکہ کی بار بار وعدہ خلافی اور قانون شکنی کی وجہ سے ایران اور امریکہ کے درمیان عدم اعتماد کی ایک مضبوط دیوار موجود ہے، اور ظاہر ہے کہ ایران ان مذاکرات میں امریکہ پر بے اعتمادی کے ساتھ شامل ہوا ہے اور اگر امریکہ اور صیہونی رجیم کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کی گئی تو ایران سفارت کاری کے راستے کو برقرار رکھنے کا پابند رہے گا اور جنگ بندی نہیں توڑے گا، تاہم ساتھ ہی ایران کی مسلح افواج، دشمن کی دوبارہ جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل دفاعی تیاری برقرار رکھیں گی۔
دنیا کے بیشتر لوگوں پر یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی کہ یہ جنگ سب سے زیادہ، صیہونی رجیم کے مفاد میں اور مسلمان اقوام بالخصوص جنوبی خلیج فارس کے ممالک کے نقصان میں ہے۔ ایران کے کچھ عرب ہمسایہ ممالک ایک تزویراتی وہم کی بنیاد پر اس جنگ میں حصہ لے کر غلطی کے مرتکب ہوئے۔ اس جنگ میں 3 ہزار سے زائد بے گناہ ایرانی شہری شہید ہوئے اور یہ بات ہمارے حافظے میں رہے گی۔ تاہم ان تمام تلخ واقعات کے باوجود خطے کے ممالک اور ایران پہلے کی طرح اچھے تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں۔ حسنِ ہمسائیگی اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اصول ہے۔ ایران خطے کے لیے کوئی خطرہ نہیں اور ہمیشہ ہمسایوں اور مسلمان اقوام کی طرف دوستی اور برادری کا ہاتھ بڑھاتا آیا ہے۔ جیسا کہ رہبر انقلاب نے اپنے حالیہ پیغام میں فرمایا: ”ہم اب بھی آپ کے مناسب ردعمل کے منتظر ہیں تاکہ ہم آپ کو اپنی برادری اور خیر خواہی دکھا سکیں“۔ عالمی برادری کے لیے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ صیہونی رجیم علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے اصل خطرہ ہے، اور افسوس کہ سات دہائیوں سے زائد اس رجیم کا قبضے کے حوالے سے سزا سے استثنیٰ، جو بحران کی جڑ ہے اور اس قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے کیے جانے والے مختلف جرائم نے مغربی ایشیا میں عدم تحفظ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ رجیم 14 مئی 1948 جسے ”یومِ نکبت“ کہا جاتا ہے سے لے کر آج تک کسی بھی معاہدے کی پابند نہیں رہی۔ 1948 سے اب تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے صیہونی جارحیت، فلسطینی عوام کے قتل عام اور بستیوں کی تعمیر کے بارے 230 سے زائد لازمی نافذ العمل قراردادیں منظور کی ہیں لیکن اس رجیم نے کسی بھی قرارداد کو قبول نہیں کیا۔ لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی اور 8 اپریل کو بیروت کی وحشیانہ بمباری اس حکومت کی جنگ پسندی کا مظہر ہے جو اپنی بقا کو بحران پیدا کرنے میں سمجھتی ہے۔ لہٰذا جنگ بندی کے مذاکرات کی پہلی دشمن صیہونی رجیم ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے پاکستان کی ثالثی کا احترام کرتے ہوئے ایک تعمیری اور مثبت رویے کے ساتھ اسلام آباد میں جنگ بندی کے مذاکرات میں شرکت کی، تاہم صیہونی رجیم اور امریکہ اپنی حد سے بڑھے ہوئے مطالبات کے ذریعے جو کچھ، وہ چالیس روزہ جنگ میں حاصل نہ کر سکے تھے، غیر جنگی فضا میں حاصل کرنا چاہتے تھے اور یہ ناممکن ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران ملک و قوم کے مفادات کے تحفظ کے لیے سفارت کاری سمیت تمام ذرائع کے استعمال کے لیے پُرعزم ہے۔ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی معزز حکومت اور عوام کا مذاکرات کی میزبانی اور اس عمل کو آگے بڑھانے میں ان کی مساعی جمیلہ پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
