حقیقی آزادی 21 توپوں کی سلامی سے نہیں، غریب کو حقوق اور تحفظ دینے سے آئے گی، محمود خان اچکزئی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) تحفظ تحریک آئین پاکستان کے سربراہ، پشتونخوا میپ کے چیئرمین، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ ایکس پر وڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ 14 اگست آزادی کا دن ہے، جسے ہم 75 سال سے منا رہے ہیں۔ 21 توپوں کی سلامی دی جاتی ہے، کچھ ٹینک گزرتے ہیں، سلامیاں لی جاتی ہیں، جھنڈا لہرایا جاتا ہے اور بس، معاملہ ختم! نہیں، ایسا نہیں ہوگا! "حقیقی آزادی!” دینا ہوگی۔ اگر سڑکیں، نالیاں اور نہریں بنانا ہی حکمرانی ہے، تو یہ سب تو انگریزوں نے بھی ہمیں بہت اچھا بنا کر دیا تھا۔ یہاں ایف سی کالج ہے، وہاں لارڈز کالج ہے، پشاور میں فلاں کالج ہے۔ سکھر بیراج اور دیگر بیراج انگریزوں نے بنا کر دیے۔ ہمیں ایک بہترین پولیس کا نظام اور شاندار عدالتی نظام دیا۔ اس وقت رشوت بھی بہت کم تھی اور ہم سب خوش و خرم تھے۔ پھر کیوں ہندوستان میں گاندھی جی ایک طرف سے اٹھا، محمد علی جناح دوسری طرف سے اٹھا، پھر مجاہدین احرار، جمعیت علماءاسلام ہند، جمعیت فلاں فلاں کہ ہم آزادی چاہتے ہیں۔ آزادی یہ نہیں کہ آپ اپنا جھنڈا تبدیل کرلیں، آزادی یعنی اگر محمد علی جناح نے یہ تحریک شروع کی تھی، اس لیے شروع نہیں کی تھی کہ ہمیں انگریزوں کی نیلی آنکھوں یا ان کے عیسائی ہونے سے چڑ تھی۔ دراصل، ہم یہ چاہتے تھے کہ ہمیں حقِ حکمرانی دیا جائے۔ ہم نے انگریزوں سے حقِ حکمرانی تو لے لیا، لیکن بدقسمتی سے ہم یہ حق اپنی عوام کو نہ دے سکے۔ حقیقی آزادی تب آئے گی جب یہاں کے صوبے اور عوام حقیقتاً آزاد ہونگے۔ پاکستان خالی خولی نعروں سے، جھنڈے لہرانے سے زندہ باد نہیں ہوگا، پاکستان تب زندہ باد ہوگا جب پنجاب زندہ باد ہوگا، پنجاب کے عام آدمی کو بھوک سے نجات مل جائے گی، جب سندھ آزاد ہوگا، جب سندھ کے ساحل و وسائل سندھیوں کی خدمت میں ہوں گے، جب سرائیکی وسیب کی زمینیں سرائیکی وسیب انسانوں کی خدمت میں ہوں گی۔ اصل میں قدورتیں، نفرتیں بے انصافی سے جنم لیتی ہیں اور جب بے انصافی سے قدورتیں بنتی ہیں پھر یہ جنگوں کی طرف جاتی ہیں۔ کوئی کسی سے روٹی نہیں مانگتا، پشاور میں مالاکنڈ میں مزدور کی دیہاڑی آج بھی 7 سو روپے ہے، وہ بھی روزانہ نہیں ملتی یہاں، ایسے لوگ بھی ہیں جن کے موبائل کا خرچ 15، بیس ہزار روپے سے زیادہ ہے اور یہ جو رات کو روایتی لسی پیتے ہیں ان کے ایک بوتل کا خرچ 70 ہزار سے زیادہ ہے، یہ کیسے چلے گا۔ ایک غریب آدمی جس کے پانچ یا آٹھ بچے ہیں وہ غریب کیا کرے گا۔ دس بچوں کو پڑھائے گا کہاں، صحت کہاں سے ہوگی فلاں چیز کہاں سے ہوگی۔ ہمارا یہ حال ہے، یہ نظام چلنے والا نہیں۔ ایک غریب آدمی نہ ان سے روٹی مانگتا ہے نہ مجھ سے مانگتا ہے وہ آپ سے یہ چاہتا ہے کہ جب میں گھر سے نکلوں میرے گھر کا دروازہ کوئی نہ کھٹکھائے، جب میں راہ چلوں کوئی میرے کپڑے نہ کھینچے۔ جو حکومت غریب کے گھر کی حفاظت نہیں کرسکتی، جو حکومت انصاف نہیں دے سکتی، جو حکومت روٹی کا بندوبست نہیں کرسکتی انہیں حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔