پنجگور (ویب ڈیسک) ضلع پنجگور میں پیش آنے والے دو الگ واقعات میں وشبود کے علاقے میں مسلح افراد نے ایک دکان سے نقدی اور قیمتی موبائل فون لوٹ لیے، جبکہ چتکان بازار میں پولیس ایم ٹی برانچ کے قریب دھماکے کے نتیجے میں ایم ٹی انچارج زخمی اور متعدد سرکاری گاڑیوں کو جزوی نقصان پہنچا۔ پنجگور کے مرکزی چتکان بازار میں پولیس ایم ٹی برانچ کے قریب نامعلوم افراد کی جانب سے مبینہ طور پر یوبی جی ایل (UBL) فائر کیے جانے سے دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں ایم ٹی برانچ کا انچارج زخمی ہوگیا، جبکہ متعدد سرکاری گاڑیوں کے شیشے اور دروازے جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد دھماکے کے بعد فرار ہوگئے۔ واقعے کے فوراً بعد چتکان بازار کی دکانیں اور مختلف مارکیٹیں افراتفری کے عالم میں بند ہوگئیں اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ چتکان بازار دھماکے کے محرکات اور ملزمان سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔ ایک اور واقعے میں وشبود کے علاقے میں بلوچی کشیدہ کاری کی دکان پر دو مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر تقریباً 85 ہزار روپے نقدی اور 50 سے 60 ہزار روپے مالیت کے دو موبائل فون لوٹ لیے۔ دکان مالک اکرام کے مطابق واقعہ صبح تقریباً 10 سے 11 بجے کے درمیان پیش آیا، جب وہ اور کاریگر دکان میں موجود تھے۔ سیاہ ہونڈا 125 موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے کلاشنکوف تان کر دکان اور وہاں موجود افراد کی تلاشی لی اور رقم و موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے۔ واقعے کا مقدمہ وشبود تھانے میں درج کرانے کے لیے درخواست دی گئی ہے۔
پنجگور، چتکان میں پولیس ایم ٹی برانچ کے قریب دھماکہ، انچارج زخمی، متعدد سرکاری گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے
