سوراب (نامہ نگار) ضلع سوراب میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے شہریوں اور تاجر برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ گزشتہ رات مین بازار میں نامعلوم چوروں نے دکانوں کے تالے توڑ کر نقدی، قیمتی سامان اور دیگر اشیاءچرا لیں، جس کے نتیجے میں دکانداروں کو لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعے کے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود پولیس کی جائے وقوعہ پر عدم موجودگی نے تاجروں میں مزید بے چینی پیدا کردی ہے۔ صبح جب دکاندار معمول کے مطابق اپنی دکانیں کھولنے پہنچے تو ٹوٹے ہوئے تالے، بکھرا ہوا سامان اور چوری کے واضح آثار دیکھ کر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ متاثرہ تاجروں کا کہنا ہے کہ بازار میں چوری کی یہ پہلی واردات نہیں بلکہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں، تاہم جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوتے جا رہے ہیں۔ تاجر برادری نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر بازار میں تعینات چوکیدار رات کے وقت دکانوں کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ آخر کس مد میں تنخواہیں وصول کر رہا ہے؟ تاجروں کا کہنا ہے کہ رات بھر بازار کی نگرانی کا بنیادی مقصد ہی چوری اور دیگر جرائم کی روک تھام ہے، لیکن مسلسل وارداتیں اس نظام کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ چوکیداروں کی ذمہ داریوں اور کارکردگی کا فوری جائزہ لیا جائے اور غفلت ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ متاثرہ تاجروں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے کے باوجود پولیس تاحال جائے وقوعہ پر نہیں پہنچی، جس سے متاثرین میں مایوسی اور عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق فوری طور پر شواہد اکٹھے کرنا اور تحقیقات کا آغاز کرنا ضروری تھا تاکہ ملزمان تک پہنچنے میں آسانی ہوتی، مگر تاخیر نے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ شہریوں اور تاجر تنظیموں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس حکام اور حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کر کے ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، مین بازار سمیت شہر بھر میں رات کے اوقات میں مو¿ثر پولیس گشت کو یقینی بنایا جائے، سیکیورٹی نظام کو فعال کیا جائے اور تاجروں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ تاجر برادری نے خبردار کیا ہے کہ اگر بڑھتی ہوئی چوری کی وارداتوں پر قابو نہ پایا گیا اور ذمہ دار اداروں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو وہ اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں کسی قسم کی غفلت ہرگز قابل قبول نہیں۔
سوراب، چوروں نے بازار میں دکانوں کو صفایا کردیا، پولیس شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام
