کوئٹہ (آن لائن) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی سندھ کے زیرِ اہتمام کراچی آرٹس کونسل میں ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت کی پانچویں برسی کے موقع پر ایک تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا، جس کی صدارت پارٹی کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے کی، جبکہ سینیٹ کے سابق چیئرمین، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ممتاز قانون دان رضا ربانی ریفرنس کے مہمان خصوصی تھے۔ تعزیتی ریفرنس میں سندھ اور پشتونخوا وطن کی قوم دوست، وطن دوست، جمہوری اور ترقی پسند سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں، کارکنوں، وکلا، دانشوروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ یہ ہمارے لیے باعثِ اطمینان ہے کہ سندھ کی تاریخی دھرتی پر ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی پانچویں برسی منائی جا رہی ہے۔ ملی شہید عثمان خان کاکڑ صرف پشتون قوم کے رہبر نہیں بلکہ تمام محکوم اقوام، مظلوم عوام اور جمہوری قوتوں کی توانا آواز تھے۔انہوں نے کہا کہ انہیں وہ دن آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب ملی شہید عثمان خان کاکڑ کو شدید زخمی حالت میں کراچی لایا گیا تھا۔ اس وقت سندھ کے ایک نوجوان اینکر نے لائیو ویڈیو میں کہا تھا کہ آج ایک محکوم قوم، بالخصوص سندھ کی ایک موثر آواز، زخمی حالت میں کراچی لائی گئی ہے۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ آج بھی اس نوجوان اینکر کے یہ الفاظ اور آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ نے اپنی پوری زندگی پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر مظلوم اور محکوم عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے پشتون، بلوچ اور سندھی اقوام کے درمیان اتحاد و اتفاق، باہمی احترام اور مشترکہ جدوجہد کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی سیاست قومی برابری، جمہوریت، آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور تمام اقوام کے مساوی حقوق کی سیاست تھی۔خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ ملک میں اس وقت جو نظام مسلط ہے، وہ بدترین آمریت کی شکل اختیار کرچکا ہے اور موجودہ صورتحال ماضی کے مارشل لاﺅں سے بھی بدتر ہے۔ پشتونخوا وطن اس وقت آگ اور خون میں جل رہا ہے، ہر طرف بدامنی، دہشت گردی، جنگ و جدل اور خوف کی فضا قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن دہشت گرد عناصر کو ریاستی پالیسی کے تحت اگست 2021ءمیں افغانستان سے لا کر پشتونخوا وطن میں آباد کیا گیا اور افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کی گئی، آج انہی عناصر کے خلاف مختلف پالیسیاں اختیار کی جا رہی ہیں اور افغانستان میں مسلح مداخلت اور جارحیت کی پالیسی کو دوام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر وہ عناصر کل غلط تھے تو انہیں یہاں لایا کیوں گیا؟ اور اگر آج وہ غلط ہیں تو کل انہیں افغانستان میں مسلط کرنے والے کون تھے؟ خوشحال خان کاکڑ نے مطالبہ کیا کہ قوم کو بتایا جائے کہ چالیس ہزار سے زائد دہشت گرد عناصر کو کہاں لا کر آباد کیا گیا، انہیں کہاں ٹھہرایا گیا اور اس تمام عمل کے فیصلے کس نے کیے۔ پشتونخوا وطن اور اس ملک کے عوام ان سوالات کے جواب کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن کے عوام مزید جنگ، دہشت گردی، بدامنی اور ریاستی پالیسیوں کے تجربات کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے۔ پشتونخوا وطن کے وسائل، امن، زمین اور عوام کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ سندھ میں آباد پشتون عوام اس دھرتی کے شہری ہیں اور انہیں اپنے روزگار، کاروبار، جان و مال اور تمام شہری و آئینی حقوق کے مکمل تحفظ کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ نے سندھ کلچر ڈے کے موقع پر اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ سندھ میں آباد پشتون عوام اپنے روزگار اور شہری حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سندھ کی دھرتی اور سندھ کے عوام کے حقوق کے لیے بھی آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی آج بھی اسی اصولی مو¿قف پر قائم ہے اور سندھ کے عوام کے قومی، جمہوری اور آئینی حقوق کی جدوجہد میں سندھ کی قوم دوست اور وطن دوست قوتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ علی وزیر کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر قید رکھنا پشتون اور سندھ کے عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے سندھ کی قوم دوست، وطن دوست اور جمہوری سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ علی وزیر کی رہائی کے لیے موثر احتجاجی تحریک منظم کریں اور ان کی فوری رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ ملک میں نئے صوبوں کا شوشہ ایک مرتبہ پھر اس لیے چھوڑا جا رہا ہے تاکہ عوام کی توجہ مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، دہشت گردی، آئینی بحران، معاشی استحصال اور دیگر بنیادی مسائل سے ہٹائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے تو سب سے پہلے برطانوی دور میں قائم برٹش بلوچستان کی تاریخی صوبائی حیثیت بحال کی جائے، جسے 1970ءمیں ختم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن کو اس کی تاریخی، قومی اور جغرافیائی وحدت کے مطابق متحدہ قومی وحدت کی شکل دی جائے اور تمام پشتون علاقوں کو ایک قومی فیڈریٹک یونٹ پشتونخوا کی صورت میں متحد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی انتظامی بنیادوں پر قوموں کی تاریخی شناخت اور قومی وحدتوں کو تقسیم کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتی ہے۔ پشتون عوام کو مزید تقسیم کرنے کے بجائے ان کی قومی وحدت، تاریخی شناخت اور مساوی آئینی حقوق کو تسلیم کیا جائے۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پشتون عوام تیسرے درجے کے شہریوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے قومی، جمہوری، آئینی اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے منظم جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔ ریفرنس کے مہمانِ خصوصی، سینیٹ کے سابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ممتاز قانون دان رضا ربانی نے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کے ساتھ سینیٹ میں گزارے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ عثمان خان کاکڑ ایک بے باک، نڈر اور دلیر رہنما تھے، جنہوں نے ہر مظلوم کے لیے آواز بلند کی۔انہوں نے کہا کہ عثمان خان کاکڑ صرف پشتونوں کے رہنما نہیں بلکہ تمام محکوم اقوام اور مظلوم عوام کی ایک موثر آواز تھے۔ وہ جب بھی سینیٹ میں بولتے تھے تو بلا خوف و خطر اپنا مو¿قف پیش کرتے اور کسی دباﺅ کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔رضا ربانی نے کہا کہ آج ایک جانب یہ کرب موجود ہے کہ ہمارا ایک اچھا دوست اور ساتھی ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن دوسری جانب یہ اطمینان بھی ہے کہ ان کے سیاسی و نظریاتی پیروکار ان کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت جمہوری ادارے اور آئینی نظام شدید دباﺅ کا شکار ہیں اور ایسی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے جو ماضی میں بھی کبھی نہیں دیکھی گئی۔ رضا ربانی نے نئے صوبوں کے قیام کے نام پر جاری بحث کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے محض انتظامی یونٹس نہیں بلکہ قوموں کی شناخت، قومی وحدت اور تاریخی حیثیت کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ کبھی ڈویژن اور کبھی ضلع کی بنیاد پر صوبے بنانے کی باتیں کرنا دراصل قوموں کی تاریخی شناخت اور قومی وحدتوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کے ذریعے حکمران اپنے اصل سیاسی اور انتظامی اقدامات سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تعزیتی ریفرنس سے سندھ ترقی پسند پارٹی کے قائم مقام صدر گلزار احمد سومرو، عوامی تحریک کے صدر وسندہ تری، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے محمد شیر مسعود، پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی قادر مندوخیل، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حمید اللہ ایڈووکیٹ اور دیگر قوم دوست، وطن دوست، ترقی پسند اور جمہوری سیاسی رہنماﺅں نے بھی خطاب کیا۔مقررین نے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی قومی، جمہوری، آئینی اور محکوم اقوام کے حقوق کے لیے لازوال جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے سیاسی و نظریاتی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ریفرنس سے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی سندھ کے صوبائی صدر سید صدیق آغا اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی جنوبی پشتونخوا کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض صوبائی ڈپٹی سیکرٹری عبدالخالق کاکڑ نے انجام دیے، جبکہ مختلف قراردادیں نظام خان نے پیش کیں۔ تلاوت کلامِ پاک کی سعادت حافظ اویس خان نے حاصل کی۔ تعزیتی ریفرنس کے شرکاءنے ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی قومی، جمہوری، آئینی اور محکوم اقوام کے حقوق کے لیے لازوال جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کے قومی، جمہوری اور نظریاتی اصولوں اور جدوجہد کو ہر سطح پر جاری رکھا جائے گا۔
نئے انتظامی یونٹس ضروری ہیں تو پہلے برٹش بلوچستان کی تاریخی صوبائی حیثیت بحال کی جائے، خوشحال کاکڑ
