آپ کے لوگ بھی کہہ رہے کہ یہ نظام نہیں چل سکتا، عمران خان کی رہائی کیلئے ہم 5 اگست کو نکلیں گے، محمود اچکزئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آنے والی پانچ تاریخ کو عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہو رہے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ علیمہ بی بی جس علاقے میں بھی جاتی ہیں، وہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ باہر نکل آتے ہیں۔ لہٰذا، لوگوں کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے۔ ہم نے تقریباً بیس روز قبل یہ اعلان کیا تھا کہ ہم 5 اگست کو عمران خان اور دیگر تمام قیدیوں کی رہائی، انصاف کی فراہمی، آئین کی بحالی اور قانون کی حکمرانی (رول آف لائ) کے لیے نکلیں گے۔ یہ ہماری تجویز بلکہ دلی خواہش تھی کہ ہم پاکستان کے تمام اضلاع میں پرامن جلسے اور جلوس منعقد کریں۔ محسن نقوی کا بیان ایک لمبی چوڑی بحث ہے، اس بیان کو تو خود حکومتی وزراءنے بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انتظامی یونٹس اس طرح نہ تو بنتے ہیں اور نہ ہی بنائے جاسکتے ہیں۔ آج اس معاملے پر رضا ربانی صاحب کا بہترین بیان آیا ہے کہ ان باتوں کو نہ چھیڑیں، پاکستان ان باتوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ کشمیر جیسے پرامن اور بندوق سے دور لوگ، جو پاکستان سے محبت کرتے ہیں، آپ نے انہیں اس نہج تک پہنچا دیا ہے کہ ان کے تقریباً 67 افراد مارے جاچکے ہیں۔ کشمیر کیلئے کل یہاں سینیٹر مشتاق اور دیگر دوستوں نے احتجاج کیا، سینیٹر مشتاق کو گرفتار کر کے نہ جانے کہاں قید کر دیا گیا ہے۔ سوات میں دھماکہ ہوا لیکن کوئی نہ تو اس کی مذمت کرتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی تدارک کرتا ہے۔ بس یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ دعا کریں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ آخر یہ کب تک چلے گا؟ جب سے یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے، سینکڑوں، ہزاروں لوگوں کو گولیاں مار دی گئی ہیں۔ آپ کے اپنے لوگ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ نظام نہیں چل رہا۔ تمام سیاسی جماعتیں کم سے کم نکات "جمہوریت، انصاف، رول آف لاء، پارلیمنٹ کی بالادستی” پر متفق ہوکر جمہوری تحریک چلائیں جس کے نتیجے میں نئے انتخابات ہو اور پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ بنے۔