اسلام آباد (ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن کا محمود خان اچکزئی کو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا سربراہ تسلیم کرنے سے انکار، انٹرا پارٹی انتخابات نہیں ہوئے، اس لیے اس وقت کوئی پارٹی چیئرمین موجود نہیں ہے، چیف الیکشن کمشنر۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ کے طور پر محمود خان اچکزئی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی الیکشن کمیشن نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے، پارٹی آئین میں تبدیلی اور اکاﺅنٹس سے متعلق اعتراضات کے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران پی کے میپ کے وکیل الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ چیف الیکشن کمشنر نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے جو پاور آف اٹارنی جمع کروائی ہے، اس پر کس کے دستخط موجود ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ پاور آف اٹارنی پر پارٹی چیئرمین کے دستخط ہیں۔ اس پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات نہ ہونے کی صورت میں اس وقت پارٹی کا کوئی چیئرمین موجود نہیں ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ پاور آف اٹارنی کو ریکارڈ پر لے لیا جائے گا اور اس سے متعلق حکم جاری کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت 19 اگست تک ملتوی کردی۔
انٹرا پارٹی انتخابات نہ ہونے پر الیکشن کمیشن کا محمود خان اچکزئی کو پی کے میپ کا سربراہ تسلیم کرنے سے انکار
