کم و بیش دس برس کے طویل وقفے کے بعد سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز صاحب سے میری ملاقات ہوئی۔ ایک دوست کے محبت بھرے اصرار پر میںاس کے ساتھ حمزہ صاحب کے دفتر جانے کیلئے تیار ہوگئی۔ تاہم میں نے واضح کیاکہ میرا پچھلے کئی برس سے حمزہ صاحب سے قطعا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ مجھے پہچانیں گے بھی نہیں، کجا کہ میری گزارش سنیں اور اسے کوئی اہمیت دیں۔ان کے دفتر داخل ہوئے تو مجھے نہایت خوشگوار حیرت ہوئی اور بیحد خوشی بھی جب حمزہ صاحب نے بغیر کسی تعارف اور یاد دہانی کے پہچان لیا۔ انہوں نے خوش مزاجی سے حال احوال پوچھا اور پھر گزرے زمانے پر گفتگو ہونے لگی۔
میں حمزہ صاحب کو جنرل پرویز مشرف کے زمانے سے جانتی ہوں۔ اس وقت میں نوائے وقت گروپ سے منسلک تھی۔ یہ وہ دور تھا جب ہر طرف مسلم لیگ (ق) کا ڈنکا بجتا تھا۔ شریف خاندان جلا وطن تھا۔ مسلم لیگ (ن) تتر بتر تھی۔ عتاب کے اس دور میں حمزہ شہباز تن تنہا پاکستان میں تھے۔اس زمانے میں یہ کورٹ ،کچہریوں میں مقدمات بھگتتے۔ تھانے میں حاضریاں دیتے۔ انتقامی کاروائیوں کا سامنا کرتے۔ پارٹی کے سیاسی معاملات دیکھتے۔خاندانی کاروبار سنبھالتے ۔گھریلو معاملات کی نگرانی کرتے۔ مجھے یاد ہے کہ ان کا دفتر مسلم ٹاون میں ہوا کرتا تھا۔ حمزہ شہباز معمول کے مطابق دفتر بیٹھتے۔ ملاقاتیں کرتے۔ بچی کچھی مسلم لیگ (ن) کے سیاسی امور نمٹاتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عتاب کے زمانے میں بھی حمزہ شہباز کا رعب و دبدبہ برقرار تھا۔ بیس اکیس برس پہلے بھی یہ سنجیدہ اور مدبر سیاست دان کی طرح نپی تلی گفتگو کرتے۔ میڈیا کو بہت مشکل سے میسر ہوتے ۔عام سیاست دانوں کے برعکس انٹرویوز دینے اور تشہیر وغیرہ سے گریزاں رہتے۔ اس انتہائی کٹھن دور میں بھی یہ کارکنوں میں گھرے رہتے۔ ان سے رابطہ رکھتے۔ان کی دل جوئی کرتے۔
پھر شریف خاندان کے سیاسی حالات بدل گئے۔ 2007 میں میاں صاحبان جلاوطنی بھگت کر وطن واپس لوٹے۔ایک مرتبہ پھر اقتدار کا ہما شریف خاندان کے سرپر آن بیٹھا۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ اور وزارت عظمیٰ بار بار اس خاندان کے حوالے ہوئیں۔ تاہم اقتدار کے زمانے میں بھی حمزہ شہباز کے سیاسی معمولات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ جب یہ زیر عتاب تھے۔ کورٹ ، کچہری اور تھانے بھگتاتے تھے، تب بھی یہ معمول کے مطابق دفتر آتے۔ کارکنوں سے ملتے۔ گلی ، محلوں ، بازاروں میں جاتے۔ ان کے والد دو بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہوئے۔ ان کے تایا نواز شریف وزیر اعظم پاکستان بنے۔یہ خود پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ تب بھی ان کا معمول برقرار رہا۔ آج ان کی کزن مریم نوازصوبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ اور والد شہباز شریف ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ ان کا یہ معمول برقرار ہے۔
ہماری سیاسی جماعتوں کا المیہ ہے کہ عمومی طور پر جدوجہد کے دور میں تو بڑے سیاسی راہنما کارکنوں سے جڑے رہتے ہیں۔ تاہم جیسے ہی اقتدار ملتا ہے ، پارٹی راہنما کارکنوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ کم وبیش تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور اراکین وغیرہ کو اپنے لیڈروں سے یہ شکایت رہتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنان اور اراکین کو بھی ہم یہ گلہ کرتے سنتے رہتے ہیں کہ ان کی اپنے لیڈروں تک رسائی نہیں ہے۔ اس صورتحال میں حمزہ شہباز کی موجودگی نہایت غنیمت ہے۔اس آدمی کو داد دیجئے کہ آج جب اس کے دفتر میں وفاقی اورصوبائی وزراء ، قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین ، اداروں کے سربراہان، نامور کاروباری شخصیات ،پارٹی عہدے دار وں اور دیگر ملاقاتیوں کا تانتا بندھا رہتا ہے، یہ آدمی کارکنوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے دروازے جتنے وزیروں کے لئے کھلے ہیں ، اتنے ہی معمولی کارکنان کیلئے بھی وا رہتے ہیں۔ کسی کی تعزیت کرنی ہو، عیادت یا مزاج پرسی کرنی ہو، شادی، سالگرہ، بچے کی پیدائش کی مبارک باد دینی ہو، کارکنوں کی مالی امداد کرنی ہو، کسی کو تھپکی دینی ہو، کسی کی دل جوئی کرنی ہو، کسی روٹھے کو منانا ہو، حمزہ شہباز پرانے محلوں کی تنگ گلیوں کو پھلانگتا ہوا ، کارکنوں کے گھروں میں جا پہنچتا ہے۔ عتاب ہو یا اقتدار، حمزہ شہباز کے معمولات میں تبدیلی نہیں آئی ۔
سیاست دانوں پر یہ تنقید بھی ہوتی ہے کہ یہ اختیار اور عہدے لینے کیلئے بے تاب رہتے ہیں۔ اقتدار کی راہداریوں کے واقفان حال بخوبی جانتے ہیں کہ یہاں ایسے سیاست دان بھی گزرے ہیں (اور اب بھی ہیں) جن کے والد ، بھائی یا کوئی قریبی عزیز کسی اعلیٰ عہدے پر پہنچ جائے تو گھر کے افراد بھی حکمران بن کر حکم چلانے لگتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اعلیٰ عہدے پر متمکن بااختیار والد یا بھائی وغیرہ سے ملاقات کرانے تک کے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں۔تاہم حمزہ شہباز اپنے مزاج اور کردار کا آدمی ہے۔ آپ اس کے سیاسی نظریات سے اتفاق کریں یا اختلاف، اسے اس بات کا کریڈٹ ضرور دینا پڑتا ہے کہ اس کے والد وزیر اعلیٰ ہوں یا وزیر اعظم، اس نے وزارت کے حصول میں دلچسپی لی نا کسی اور عہدے میں۔ آج بھی یہ شخص ایوان وزیر اعظم میں ڈیرہ جمانے کے بجائے ماڈل ٹاون والے دفتر میں بیٹھتا ہے۔ اس کے والد وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطحی اجلاس بلائیں۔ طاقتور حلقوں سے ملاقاتیں کریں۔ غیر ملکی دوروں پر جائیں۔ حمزہ شہباز شریف ان کے ساتھ نظر نہیں آتا۔ پاکستان کی سیاست کے تناظر میں دیکھیں تو یہ بے نیازی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
بہرحال اس ملاقات میں مجھے حمزہ شہباز صاحب میں کوئی خاص تبدیلی دکھائی نہیں دی۔ مجھے لگا کہ یہ وہی پرانا حمزہ شہباز ہے جو عتاب کے زمانے میں ہوا کرتا تھا۔ وہی وضع قطع، وہی انداز گفتگو، وہی سیاسی نظریات، وہی وضعداری۔برسوں پہلے ان کے دفتر میں ترتیب سے ان کے دادا، تایا، والد ، اور چچا کی تصاویر لگی ہوتی تھیں۔مجھے یاد ہے کہ اس زمانے میںیہ اصرار کرتے تھے کہ میرے دادا کی تصویر میرے انٹرویو کے دوران ضرور دکھائی دینی چاہیے، کیوں کہ ہماری سیاسی تربیت دراصل انہوں نے ہی کی ہے۔ یہ سب تصاویر آج بھی اسی ترتیب سے ان کے دفتر میں آویزاں ہیں۔پہلے بھی یہ خود کو مسلم لیگ (ن) کا کارکن کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ آج بھی خود کو کارکن کہہ رہے تھے۔ ان کے دفتر میں بیٹھے، ان کی گفتگو سنتے، مجھے محسوس ہوا کہ آتے جاتے اقتدار نے ان پر کچھ خاص اثر نہیں ڈالا۔
حمزہ شہباز نے ایک طویل سیاسی جدوجہد کی ہے۔بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ( غالبا 1994 میں) زمانہ طالبعلمی میں انہیں محض سیاسی انتقام کی وجہ سے چھ ماہ تک جیل کاٹنا پڑی۔اس وقت ان کی عمر اٹھارہ انیس برس تھی۔ پرویز مشرف کے زمانے میں یہ انتقامی کاروائیوں کا سامنا کرتے رہے۔تحریک انصاف کے دور میں کم وبیش 20 ماہ قید رہے۔ تاہم آپ ان کے منہ سے اس سیاسی جدوجہد کا ذکر شاذو نادر ہی سنیں گے۔ ان کی گفتگو سنتے مجھے خیال آیا کہ برسوں پہلے بھی یہ اپنے دفتر کے ایک کونے میں سادہ سے کرسی میز پر بیٹھا کرتے تھے۔ آج بھی اسی انداز میں بیٹھے ہیں۔ میں یہ بات انہیں کہہ نہیں سکی ، تاہم سیاسیات اور ابلاغیات کی ادنیٰ طالب علم کے طور پر میں نے سوچا کہ بے نیازی اچھی بات سہی، تاہم حمزہ شہباز شریف کو اب یہ گوشہ نشینی ترک کرنی چاہیے ۔
وہی پرانا حمزہ شہباز شریف !!
