بھارت میں طلبہ کے احتجاج کو اپوزیشن کی حمایت، امتحانی پیپر لیکس کے خلاف تحریک میں شدت

نئی دہلی(بلوچستان نیوز) بھارت میں امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے، بدعنوانی اور بے روزگاری کے خلاف جاری طلبہ احتجاج کو ملک کی اپوزیشن جماعتوں کی کھلی حمایت حاصل ہو گئی ہے، جس کے بعد یہ تحریک مزید زور پکڑتی جا رہی ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز ہزاروں طلبہ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے۔پولیس کارروائی کے بعد کانگریس سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما طلبہ کے حق میں میدان میں آ گئے۔ کانگریس کے سینئر رہنماؤں راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ **”طلبہ پر حملہ ہر بھارتی خاندان پر حملہ ہے۔ حکومت کو امتحانی پیپر لیکس کے معاملے پر جواب دینا ہوگا۔”** بعد ازاں پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ طلبہ کے مفادات کے تحفظ اور امتحانی نظام میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم وزیر اعظم نریندر مودی نے اب تک اس معاملے پر عوامی سطح پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن جماعتیں اس احتجاج کو نوجوان ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھ رہی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب آئندہ برس اتر پردیش اور پنجاب سمیت اہم ریاستوں میں انتخابات متوقع ہیں۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ اپوزیشن کی حمایت سے احتجاجی تحریک کو مزید تقویت مل سکتی ہے، لیکن اس بات کا خدشہ بھی موجود ہے کہ طلبہ کے بنیادی مطالبات، جیسے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیکس کی روک تھام اور روزگار کے مواقع، سیاسی مقاصد کی نذر ہو سکتے ہیں۔احتجاجی تنظیم **Cockroach Janta Party (CJP)** نے واضح کیا ہے کہ ان کی تحریک سیاسی نہیں بلکہ طلبہ اور عوام کے حقوق کے لیے ہے۔ تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ اپوزیشن کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم تحریک کو سیاسی رنگ نہیں دیا جائے گا۔بھارت میں لاکھوں نوجوان گزشتہ کئی برسوں سے بے روزگاری، امتحانی بے ضابطگیوں اور حکومتی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ حالیہ احتجاج کو ان مسائل کے خلاف اب تک کی بڑی عوامی تحریک قرار دیا جا رہا ہے۔