اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کا آغاز اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کے بارے میں یہ تاثر قائم کیا گیا ہے کہ وہ ایک خطرناک قوم ہیں، حالانکہ کسی بھی قوم یا قبیلے کو تعصب کی بنیاد پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ افغان نام اور افغانستان سے متعلق حساسیت کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ پشتونوں نے کبھی کسی کی ایجنٹی نہیں کی اور پشتونوں کو دہشت گرد قرار دینا قابل مذمت ہے۔انہوں نے سابق قبائلی علاقوں (فاٹا) کے انضمام کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کا انضمام اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا اور وہاں محدود آئینی دفعات نافذ تھیں، لیکن بعد ازاں متعدد آئینی آرٹیکلز ایک ساتھ نافذ کر دیے گئے، جس کے نتائج آج بھی سامنے آ رہے ہیں۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اپنے ہی لوگوں پر گولیاں چلانا تباہی کا راستہ ہے جبکہ آئین ہر شہری کو احتجاج کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جیلوں میں کم عمر بچے موجود ہیں اور 9 مئی کے بعد خواتین اور نوجوانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بھی سوالات اٹھائے۔بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نواب نوروز خان اور نواب اکبر بگٹی کے ساتھ ہونے والے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں اور ایسے اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک کمزور ریاست کو مضبوط بنانے کی کوشش کی، تاہم انہیں پھانسی دے دی گئی۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیتے رہے ہیں اور پارلیمنٹ کے استحکام کے لیے مختلف سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور سندھ کے وسائل پر وہاں کے عوام کا حق تسلیم کیا جائے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور انصاف میں ہے۔اپوزیشن لیڈر نے سرحدی تجارت، چمن سے کراچی تک سامان کی ترسیل اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی راستوں کی بندش سے کسانوں اور تاجروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر 8 ہزار 500 روپے ماہانہ آمدن رکھنے والا شخص غربت کی لکیر سے نیچے شمار ہوتا ہے تو حکومت کو ایسے کروڑوں پاکستانیوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے جانی نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی سے اتنے لوگ مارے گئے جتنے روایتی جنگوں میں نہیں مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی مفاہمت، صوبائی حقوق کے احترام اور عوامی اعتماد کی بحالی میں ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ پشتونوں نے کبھی کسی کی ایجنٹی نہیں کی، دہشت گرد قرار دینا قابل مذمت ہے، محمود اچکزئی
