بیٹے کو قتل کردیا گیا، بااثر افراد نے مجھے گھر اور علاقے سے بے دخل کردیا، قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، خضدار کی رہائشی خاتون کی دہائی، انصاف فراہمی کا مطالبہ

خضدار کی رہائشی خاتون نے کوئٹہ پریس کلب میں انتہائی رقت آمیز پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے قتل، گھر سے بے دخلی اور مسلسل دھمکیوں کے خلاف انصاف اور تحفظ کی اپیل کردی۔ پریس کانفرنس کے دوران خاتون کئی بار آبدیدہ ہوگئیں اور اپنے دکھ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماں سے اس کا سب سے قیمتی سرمایہ، اس کا جوان بیٹا چھین لیا گیا، لیکن ظلم کی داستان یہیں ختم نہیں ہوئی۔ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ رمضان المبارک میں خضدار سبزی منڈی کے مقام پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں ان کے جگر گوشے کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹے کی لاش کو دیکھ کر ان کی دنیا اجڑ گئی، مگر اس المناک سانحے کے بعد بھی ان کے خاندان کو سکون نصیب نہ ہوسکا۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ بااثر افراد نے ان کے گھر پر دھاوا بول کر دروازے، الماریاں، بیڈ اور دیگر گھریلو سامان کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا جبکہ قیمتی اشیاءبھی اٹھا کر لے گئے، قتل لوٹ مار دھمکیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے گھر کی چار دیواری، جو برسوں کی محنت اور یادوں کا مرکز تھی، چند لمحوں میں تباہ کردی گئی۔ خاتون نے کہا کہ ظلم کی انتہا اس وقت ہوئی جب انہیں اور گھر کی دیگر خواتین کو زبردستی گھر سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ اپنے ہی علاقے میں بے آسرا اور بے گھر ہوچکی ہیں، کبھی کسی پڑوسی کے گھر تو کبھی کسی رشتہ دار کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ ان کے بقول، "ہماری چھت چھین لی گئی، ہمارا سکون چھین لیا گیا، اور اب ہماری جانیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران خاتون نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ہر گزرتا دن خوف اور بے یقینی میں بسر ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف وہ اپنے شہید بیٹے کے غم میں نڈھال ہیں اور دوسری طرف اپنے باقی بچوں اور خاندان کی جان بچانے کی فکر انہیں اندر ہی اندر کھائے جارہی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس بلوچستان، کمشنر قلات ڈویژن، انسانی حقوق کے اداروں اور عدلیہ سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کے قتل، گھر پر حملے، مبینہ لوٹ مار، زبردستی بے دخلی اور دھمکیوں کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔