کوئٹہ (بلوچستان نیوز) بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی نور محمد شاہوانی نے کہا ہے کہ معدنیات لے جانے والے ٹرکوں کو جلانے اور ٹائر برسٹ کرنے سے ہمیں کروڑو کا نقصان ہوا ہے ۔ حکومت کی طرف سے کوئی سیکورٹی نہیں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹروں نے فیصلہ کیا ہے کہ کرومائیٹ ، ماربل سمیت دیگر معدنیات لوڈ کرنہیںجو بھی ٹرک یا کمپنی مالک معدنیات لوڈ کرے گا اپنے نفع نقصان کا خود ذمہ دار ہوگامعدنیات لوڈ کرنے کے علاوہ دیگر اشیاءخوردونوش و سامان کی لوڈنگ جاری رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قومی شاہراہوں پر کرومائیٹ، ماربل و دیگر معدنیات لے جانے والے ٹرکوں کو جلانے اور ٹائروں کو برسٹ کرنے کا سلسلہ کئی عرصے سے شروع ہے، حالیہ واقعات میں آباد ضلع مستونگ، کھڈ کوچہ، ارماگئے ضلع خاران، واشک، خضدار کے علاقوں میں ایک درجن کے قریب ٹرکوں پر حملے کیے گئے جس میں 8 ٹرکوں کو جلا یا گیا ہے اور باقی کے ٹائروں کو نقصان پہنچایا گیا ان حالات کی وجہ سے ٹرانسپورٹروں کیلئے معدنیات لے جانا ایک عذاب بن چکاہے کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ٹھیکیداران ، معدنیات مالکان اور مائنز سے وابستہ لوگ کوئی تعاون نہیں کرتے ہیں اور صوبائی حکومت بھی تعاون اور نقصانات کا ازالہ نہیں کررہی ہے۔ ان حالات و واقعات کی وجہ سے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ آج کے بعد کوئی ٹرک دالبندین، نوکنڈی، مسلم باغ، لورالائی سے کرومائیٹ ، ماربل لوڈ نہیں کرے گا اگر کسی بھی کمپنی والا لوڈ کرے گا تو وہ اپنے نفع و نقصان کے خود ذمہ دار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی بھی شاہراہ محفوظ نہیں ہے، دن دہاڑے لوٹ مار شروع ہے گن پوانٹ پر ٹرکوں ، بسوں کو کھڑا کرکے زبردستی پیسے لیے جاتے ہیں، رخشان ناکہ، بروری ناکہ ،باریجہ ضلع جھل مگسی، رکھنی، دہانہ سر میں سیکورٹی و کسٹم اہلکار چیک پوسٹوں پر خوراک والے کھڑے ٹرکوں سے زبردستی ڈیزل نکال دیتے ہیں۔ حب چوکی ساکران پولیس تھانہ کا ایس ایچ او کا رویہ ٹرانسپورٹروں کے ساتھ ہتک آمیز ہے، بلوچستان سے کراچی سندھ جانے والے ٹرکوں،ٹرالروں سے زبردستی بھتہ لیا جاتا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پولیس اور دیگر اداروں کی بھتہ گیری، چیک پوسٹوں کو مکمل ختم کرنے کا آرڈر جاری کیا ہے اس کے باوجود پولیس ،کسٹم اور دیگر ادارے ٹرانسپورٹروں سے بھتہ اور ڈیزل نکالنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لکپاس کسٹم ویئر ہاﺅس میں آتشزدگی کے نتیجے میں ٹرانسپورٹروں کے اربوں روپیہ کی گاڑیاں جل گئی ہیں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان ہائیکورٹ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی بناکر ملوث ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میںلائی جائے۔
بلوچستان میں کوئی شاہراہ محفوظ نہیں، معدنیات کی ترسیل نہیں کریں گے، گڈز ٹرک اونرز کی پریس کانفرنس
