کوئٹہ (ویب ڈیسک) ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں معروف براہوی شاعر، ادیب اور استاد پروفیسر غمخوار حیات جاں بحق ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ نوشکی شہر کے نواحی علاقے کلی مینگل کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے ان کو نشانہ بنایا۔ نوشکی پولیس کے ایس پی سلیم شاہوانی کے مطابق پروفیسر غمخوار حیات حملے میں جانبر نہ ہوسکے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ٹیچنگ ہسپتال نوشکی منتقل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکے، اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسر غمخوار حیات کا قتل صوبے کی علمی، ادبی اور فکری اقدار پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
نوشکی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے براہوی زبان کے شاعر، ادیب اور استاد پروفیسر غمخوار حیات جاں بحق
