جنگ میں کمزور سے کہیں بہتر شہادت کی موت ہوتی ہے کہنے میں یہ بات ضرور جذباتی لگتی ہے اور آج کل کی مادی دنیا میں حیات و موت کا مقصد بھی منطقی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے مگر طاقت کے بالمقابل خالی اسلحہ نہیں جذبہ بھی اتنا ہی بڑا خوفناک بم ہے…۔
ایران اسرائیل امریکہ کی پھیلتی سکڑتی جنگ میں پاکستان افغانستان کی جنگ کی خبریں اب بھی پس پردہ نہیں گئیں… افغانی قیادت کا چھپ کر دبک جانا یقیناً پاکستان افواج کی ہمت و شجاعت کے باعث ہی ممکن ہوا آج جو افغانی چوکیوں پر پاکستانی پرچم لہرا رہا ہے تو یہ سہرا پاک فوج کے سر ہے‘ جنہوں نے دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان میں جابجا پھٹتے بموں اور پرسکون دارالخلافہ کو ممکن بنایا وگرنہ تو پی ٹی آئی کے شرپسند ان دہشت گرودوں کو بچانے کے لئے کہہ رہے تھے کہ افغانستان کو جواب دیا تو پاکستان میں جابجا خودکش حملے اور دیسی ساخت کے بم پھٹیں گے اور ٹی ٹی پی‘ ٹی ایل پی‘ بی ایل اے اور یوتھیا ازم کو بچانے کیلئے یہ یہودی ایجنڈے پر کام کرنے والے یہ سبق دے رہے تھے کہ افغانستان کا حملہ چھپ کر کے برداشت کر جائو نہیں تو وہ ہمیں اڑا دیں گے آج کہاں ہیں وہ جعلی دانشور جنہیں اپنی فوج اور اپنے سپہ سالار پر یقین نہیں تھا اور وہ سجھتے تھے کہ یہ افغانی ہمیں لقمہ اجل بنا دینگے‘ حالانکہ افغانیوں کا پاکستان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں… اس کے باوجود پاکستانی افواج اور حکومت نے طاقت کے زعم کی بجائے ایران‘ ترکیہ‘ دوہا‘ قطر‘ سعودیہ اور چین کے ذریعے بھرپور سفارت کاری کی کہ یہ جنگ نہ ہو مگر اتنی خستہ حالی کے باوجود افغانیوں نے حسب روایت ٹی ٹی پی کو سرحدوں سے دور لے جانے کے لئے یا بارڈر سے شفٹ کرنے کے لئے دس ارب روپیہ ہمیں دیا جائے۔ پاکستان کے ’’چٹے جواب‘‘ کے بعد اب وہ بھارت سے پیسے لے رہے ہیں افغانستان کا امیر متقی سات دن کے دورے پر افغانستان گیا تھا اور وہاں سے ڈیڑھ ارب ڈالر ’’ڈیم‘‘ بنانے کی مد میں لے کر آیا تھا جو کہ درحقیقت پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ہونے کے لئے دیئے گئے تھے… جون جولائی میں یہ رقم ان شرپسندوں کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے لئے ملی اور اسی وقت سے پاکستان میں دہشت گردی بامِ عروج پر پہنچ گئی تھی…۔
یہ معاملہ اگست میں بھارتی مالی کمک کی وجہ سے اور بھی بڑھ گیااور ان احسان فراموشوں نے چالیس برس اپنی میزبانی کرنے والے پاکستان پر جہاں ان کے چالیس لاکھ افراد رہتے رہے ہیں انہوں نے دہشت گردی وہ بھی کرائے کی دہشت گردی کی صفیں بچھا دیں…۔
یہ چونکہ دہشت گرد ہیں اس لئے دین کی روح سے اور دنیوی علوم سے الگ ہی ان کا کوئی مکتبہ فکر ہے جہاں کے انہوں نے اپنے ہی قوانین رکھے ہیں… جبکہ دو ہزار افغانی علماء نے پاکستان سے جنگ کو حرام کہا ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک اسلامی ملک ہے بلکہ دیگر اسلامی ملکوں کیلئے طاقت کا سورس اور حوصلہ بھی ہے۔
دس مئی کے واقعے کے بعد سے ہندوستان نے افغانستان کو ہائر کر لیا ہوا ہے امیر متقی پر اس سے قبل سفری پابندیاں تھیں یعنی یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ افغانی سربراہ دنیا میں ٹریول نہیں کر سکتا تھا مگر یہ سفری پابندیاں اس پر سے کیسے اتریں ظاہر ہے اسرائیلی مدد کے بغیر یہ کیسے ممکن ہوتا… گلبدین حکمت یار اور دیگر بظاہر افغانی لیڈران نے جو اسرائیلی جریدوں کو پاکستان مخالف انٹرویو دیتے ہوئے اصرار کیا کہ پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لئے اسرائیل اس کی مدد کرے مولانا ہیبت اللہ کے بیانات میں تضاد ہے وہ بظاہر مذاکرات کی بات کر کے بھی قابل یقین اس لئے نہیں کہ دوہا قطر ترکیہ و دیگر ممالک جہاں ان کے دفاتر ہیں وہاں کی سفارت کاری بھی ان کو قابل قبول نہیں رہی جن ملکوں میں ان کے گھر ہیں ان کی سفارت کاری بھی ان کو قبول نہیں جن کا صاف مطلب ہے کہ یہ لوگ صرف بلیک میلنگ‘ بھتہ اور ٹیکس کی زبان سمجھتے ہیں اور کسی ازم‘ یا مذہب کی حقیقی روح کی خدمت ان کا مطمع نظر نہیں‘ جو لوگ بھارت سے مدد لے کر پاکستان میں شر پھیلاتے ہیں اسرائیلی سفارش پر دنیا میں چلتے ہیں ان کے حق میں جب پاکستان سے ایک جماعت علم بلند کرتی ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے… حتی کہ خان کی بہنیں ہر جنگ میں پاکستان کی مخالف پارٹی کی حمایت میں کھڑی ہو جاتی ہیں۔
ان میں سے کچھ نامراد تو ایسے ہیں جو شہیدوں کے لہو کی خوشبو بھلا کر یہاں تک کہتے رہے کہ بھارت سے جنگ ہوئی ہی نہیں حالانکہ اس کو اگر مثبت انداز میں لیا جائے تو واقعی پاکستانی افواج نے ہمیں اتنا محفوظ رکھا کہ ہم 65‘ 71 والی جنگی خوف سے محفوظ رہے کہ ہماری فضائیہ نے بھارت میں گھس کر ان کے اسلحہ ڈپوئوں کو راکھ کر ڈالا جدید ترین طیارے گرا کر جنگ کی تاریخ بدل ڈالی سندور کو تندور میں جھونک دیا… بھارت کو عالمی شرمندگی کا سامنا ہوا مگر یہاں کے بند ذہنوں والے جن کے دلوں پر تالے لگ چکے ہیں یہ بھارت کے ساتھ تھے اور اب جب ہمارے بہادر جوان ہماری عصمتوں کی حفاظت میں دن رات جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں یہ بدبخت افغانستان کے حق میں ہو گئے ہیں جو دشمنی کا بیج خان بو کر جیل باش ہو گیا وہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا… مگر سلام ہے ہمارے سپہ سالاروں کو جو ان بدبختوں کی حفاظت میں سرگرم ہیں جن کے دلوں پر ایسے قفل ہیں جوٹریننگ سکول سے ہماری افواج کو سپہ سالار کی نگرانی میں خود نکالتے ہوئے دیکھ رہے تھے مگر انکاری تھی کہ پاک افواج نے اتنے زیادہ سٹوڈنٹ بغیر کسی نقصان کے دہشت گردوں کے نرغے سے بچا لئے…۔
جوانان وطن کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہ فخر کریں اپنی افواج پر کہ آج پوری دنیا خطرے میں ہے اور صرف پاکستان محفوظ ہے الحمدللہ…۔
افواج سلامت ریاست سلامت…
