ماخذ: یو این اے
اسلام آباد(یو این اے)پاکستان کے 10 بڑے گیس فیلڈز میں 30 جون 2026 تک 10.605 ٹریلین مکعب فٹ (ٹی سی ایف)گیس کے قابل بازیافت ذخائر باقی تھے، جبکہ ملک کے 10 بڑے آئل فیلڈز میں خام تیل کے 10 کروڑ 50 لاکھ بیرل قابل بازیافت ذخائر موجود تھے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اور ویلتھ پاکستان کو دستیاب اعداد و شمار میں ملک کے بڑے تیل و گیس کے ذخائر، اب تک کی مجموعی پیداوار اور باقی ماندہ قابل بازیافت ذخائر کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق ملک کے 10 بڑے گیس فیلڈز میں ابتدائی قابل بازیافت ذخائر کا مجموعی حجم 43.358 ٹریلین مکعب فٹ تھا، جن میں سے اب تک 32.753 ٹریلین مکعب فٹ گیس پیدا کی جاچکی ہے، جبکہ 10.605 ٹریلین مکعب فٹ قابل بازیافت ذخائر باقی ہیں۔ ضلع گھوٹکی میں واقع ماری ایچ آر ایل گیس فیلڈ میں سب سے زیادہ 2.777 ٹریلین مکعب فٹ قابل بازیافت ذخائر موجود ہیں، جبکہ ضلع ڈیرہ بگٹی میں واقع اوچ گیس فیلڈ 2.551 ٹریلین مکعب فٹ ذخائر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ ضلع سکھر میں واقع کندھرا گیس فیلڈ میں 1.858 ٹریلین مکعب فٹ قابل بازیافت ذخائر باقی ہیں، جبکہ ضلع گھوٹکی کے ماری غازیج فیلڈ میں 1.723 ٹریلین مکعب فٹ ذخائر موجود ہیں۔پاکستان کے بڑے گیس پیدا کرنے والے فیلڈز میں شامل سوئی گیس فیلڈ میں 621 ارب مکعب فٹ (بی سی ایف) قابل بازیافت ذخائر باقی ہیں، جبکہ اس کے ابتدائی قابل بازیافت ذخائر 12.655 ٹریلین مکعب فٹ تھے۔ 30 جون 2026 تک اس فیلڈ سے مجموعی طور پر 12.034 ٹریلین مکعب فٹ گیس پیدا کی جا چکی تھی۔دیگر بڑے گیس فیلڈز میں ضلع گھوٹکی کا قادرپور فیلڈ شامل ہے، جہاں 603 ارب مکعب فٹ قابل بازیافت ذخائر موجود ہیں۔ ضلع کشمور کے کندھ کوٹ فیلڈ میں 355 ارب مکعب فٹ، خیرپور کے ساون فیلڈ میں 83 ارب مکعب فٹ، دادو کے بھٹ فیلڈ میں 23 ارب مکعب فٹ اور دادو ہی کے زمزمہ فیلڈ میں 11 ارب مکعب فٹ قابل بازیافت ذخائر باقی ہیں۔سرکاری اعدادوشمار میں ملک کے 10 بڑے آئل فیلڈز کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں، جن کے ابتدائی قابل بازیافت ذخائر مجموعی طور پر 56 کروڑ 70 لاکھ بیرل تھے۔ان میں سے 46 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل پیدا کیا جا چکا ہے، جبکہ 10 کروڑ 50 لاکھ بیرل قابل بازیافت ذخائر باقی ہیں۔ضلع کوہاٹ میں واقع برگ زئی آئل فیلڈ میں سب سے زیادہ 4 کروڑ 90 لاکھ بیرل قابل بازیافت ذخائر موجود ہیں، جبکہ حیدرآباد کے پشاکیپشاکی نارتھ فیلڈ میں ایک کروڑ 10 لاکھ بیرل ذخائر باقی ہیں۔ضلع کرک کے نشپا، راولپنڈی کے آدھی اور اٹک کے دھرنال آئل فیلڈز میں سے ہر ایک میں تقریبا 90 لاکھ بیرل قابل بازیافت ذخائر موجود ہیں۔دیگر آئل فیلڈز میں حیدرآباد کا کمار فیلڈ شامل ہے، جہاں 80 لاکھ بیرل ذخائر موجود ہیں۔ ضلع کرک کے مکوری ایسٹ فیلڈ میں 60 لاکھ بیرل، چکوال کے بلکسر فیلڈ میں 20 لاکھ بیرل اور اٹک کے میال فیلڈ میں 10 لاکھ بیرل قابل بازیافت ذخائر باقی ہیں۔ دستاویز میں اٹک کے ڈھوکیان آئل فیلڈ کے لیے کوئی باقی ماندہ قابل بازیافت ذخائر درج نہیں کیے گئے۔ذخائر کے اعدادوشمار کے ساتھ پٹرولیم ڈویژن نے تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملکی سطح پر ہائیڈروکاربن کی فراہمی بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کی تفصیلات بھی پیش کی ہیں۔دستاویز کے مطابق تقریبا دو دہائیوں کے وقفے کے بعد اکتوبر 2026 میں سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے بولی کا مرحلہ منعقد کیا گیا، جس کے نتیجے میں تلاش کے 23 بلاکس الاٹ کیے گئے۔نئی مقامی اور غیر ملکی تیل و گیس کمپنیوں نے بولی کے عمل میں حصہ لیا اور تلاش کے لیے علاقے حاصل کیے۔حکومت نے گزشتہ تین سال کے دوران خشکی پر تیل و گیس کی تلاش کے لیے بولی کے پانچ مراحل بھی مکمل کیے، جن کے تحت تلاش اور پیداوار کی سرگرمیوں کے لیے 46 بلاکس الاٹ کیے گئے۔ملک میں ہائیڈروکاربن کے امکانات کا جائزہ لینے اور مستقبل میں تلاش اور پیداوار کے نئے مواقع کی نشاندہی کے لیے ارضیاتی طاسوں کا ایک جامع اور اعلی تفصیلی مطالعہ بھی جاری ہے۔پٹرولیم ڈویژن کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل نے فروری 2024 میں ٹائٹ گیس پالیسی 2024 کی منظوری دی تھی، جس کے تحت پٹرولیم پالیسی 2012 کے مقابلے میں گیس کی قیمتوں کے حوالے سے اضافی مراعات فراہم کی گئی ہیں۔پٹرولیم پالیسی 2012 میں ترامیم کے ذریعے بھی تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کرنے والی کمپنیوں کو نئی پالیسی کے تحت منتقل ہونے کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ موجودہ لائسنس رکھنے والی کمپنیوں کے لیے زون ون (ایف) کی مراعات اور تجارتی پیداوار شروع ہونے تک لیز کی مدت میں توسیع کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔تیسرے فریق کو گیس کی فروخت کے نظام کے تحت تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کرنے والی کمپنیوں کو نئی دریافتوں سے حاصل ہونے والی گیس کا 35 فیصد تک حصہ مسابقتی بولی کے ذریعے تیسرے فریق کو فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔دستاویز میں مالی سال 2025-26 کے دوران تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار بڑھانے کے اقدامات کے نتائج بھی بیان کیے گئے ہیں۔اس مالی سال کے دوران تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کرنے والی کمپنیوں نے 58 نئے تلاش اور ترقیاتی کنوں کی کھدائی شروع کی، جس کے نتیجے میں تیل و گیس کی 18 دریافتیں ہوئیں۔ذخائر کی پیداوار کے مقابلے میں نئے ذخائر کی شمولیت کا تناسب تیل کے لیے 2.64 اور گیس کے لیے 1.95 رہا، جو ظاہر کرتا ہے کہ سال کے دوران قابل بازیافت ذخائر میں ہونے والا اضافہ پیداوار کے حجم سے زیادہ تھا۔مزید برآں، مالی سال 2025-26 کے دوران ملکی پیداواری نظام میں روزانہ تقریبا 30 کروڑ مکعب فٹ قدرتی گیس اور 16 ہزار بیرل خام تیل کی اضافی پیداوار شامل کی گئی۔
