اشاعتی ڈیسک: روزنامہ بلوچستان نیوز ویب ڈیسک
کوئٹہ (ویب ڈیسک) مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گردی کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد عامر نواز رانا نے گز شتہ روز کھلی عدالت میں تحقیقاتی کمیشن کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے سماعت کی۔ سماعت کے دوران متعدد گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے، جن میں سیاسی رہنما اصغر خان اچکزئی بھی شامل تھے۔ انہوں نے اپنے بیان کے دوران حکومت اور زیارت شہداءکے لواحقین کے درمیان کیے جانے والے تحریری معاہدے کی متعدد شقوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور حکومت کی جانب سے غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کی شکایت کی۔ انہوں نے کمیشن کے روبرو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سیاسی، حکومتی اور عسکری قیادت سے مکمل توثیق شدہ قومی ایکشن پلان کی کاپیاں بھی پیش کیں، جس کے مطابق دہشت گردوں، غیر قانونی مسلح جتھوں، کالعدم تنظیموں اور عسکریت پسند گروہوں کیخلاف سیکورٹی کارروائیاں کرنے، ان عناصر کے مالی وسائل پیدا کرنے والے نیٹ ورکس اور سہولت کاری کے مراکز، بشمول منشیات گاہوں، کے خلاف اقدامات کا جامع منصوبہ موجود ہے۔ گواہ کے مطابق، اگر حکومت صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کی موجودہ سنگین لہر پر قابو پانے اور مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے سنجیدہ ہے تو نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق من و عن عملدرآمد کرے۔ اس موقع پر تحقیقاتی کمیشن نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل برائے بلوچستان اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو ہدایت جاری کی کہ وہ حکومت کی جانب سے اصغر خان اچکزئی کے اٹھائے گئے نکات کے بارے میں الگ الگ جامع رپورٹ اگلی سماعت پر پیش کریں۔ سماعت کے دوران ڈائریکٹر ویب اینالیسس ڈویژن (WAD)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کمیشن کے روبرو پیش ہو کر سوشل میڈیا پر سانحے سے متعلق جھوٹے، سنسنی خیز اور نفرت آمیز مواد کیخلاف کیے گئے اقدامات کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے تحقیقاتی کمیشن کی ہدایت کی روشنی میں وفاقی حکومت کی جانب سے متعلقہ دائرہ کار سے وابستہ سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (SMPRA) کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی پیش کیا، جس کے تحت اتھارٹی کے چیئرپرسن اور چھے ارکان کا تقرر کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، شہید پولیس اہلکار جہانداد خان کے سول اسپتال کوئٹہ میں موبائل فون اور دیگر سامان چوری ہونے کے معاملے میں متعلقہ تفتیشی افسر بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور چوری شدہ موبائل فون اور دیگر سامان کی برآمدگی کے حوالے سے پیش رفت رپورٹ جمع کرائی۔ تفتیشی افسر نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں، جن کے اعترافی بیان کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کمیشن کو فراہم کر دی گئی ہے۔ اس پر تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد عامر نواز رانا نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس غلیظ حرکت کے مرتکب افراد سے کسی بھی قسم کی رعایت نہ برتی جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ تحقیقاتی کمیشن کی مزید کارروائی اگلی سماعت تک ملتوی کر دی گئی۔
