ماخذ: یو این اے
اورماڑہ (یو این اے) مکران کی ساحلی پٹی پر واقع اورماڑہ کے دیمی زر ساحل پر جنگلی حیات کے ماہر اور ماحولیاتی صحافی محمود سگار نے نایاب ریپل سینڈ فاکس کے دو جانوروں کے پیروں کے نشانات دریافت کیے ہیں۔ ان نشانات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ان کی سائنسی شناخت کی گئی، جسے علاقے میں اس نایاب نسل کی موجودگی کا اہم ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ محمود سگار کے مطابق اس سے قبل 14 جولائی 2026 کو اورماڑہ کے علاقے منیجی میں مکران کوسٹل ہائی وے پر ایک ریپل سینڈ فاکس سڑک حادثے میں ہلاک ہوگئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ بھی اس خطے میں اس نسل کی موجودگی کا ثبوت تھا۔انہوں نے بتایا کہ اورماڑہ کا ساحلی علاقہ ماضی میں ریت کے وسیع ٹیلوں پر مشتمل تھا، جہاں ریپل سینڈ فاکس اور ریڈ فاکس سمیت جنگلی حیات کی مختلف اقسام پائی جاتی تھیں۔ تاہم، انسانی آبادی میں اضافے اور قدرتی ماحول میں مداخلت کے باعث جنگلی جانوروں کے مسکن اور انسانوں کے درمیان موجود قدرتی فاصلے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔محمود سگار کے مطابق علاقے میں ریڈ فاکس اور گیدڑ بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ بلینفورڈز فاکس نامی ایک اور نایاب لومڑی چٹانی اور پہاڑی علاقوں تک محدود ہے۔ انہوں نے ساحل پر دو سینڈ فاکس کے نشانات ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دریافت اس نسل کی بقا کی امید دلاتی ہے، تاہم اس کے تحفظ اور مسلسل نگرانی کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔اسسٹنٹ کنزرویٹر وائلڈ لائف آواران زاہد الدین نے محمود سگار کی کاوشوں کو علاقے میں جنگلی حیات کے تحفظ اور سائنسی تحقیق کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تحقیقات نایاب جانوروں کی موجودگی اور ان کے قدرتی مسکن کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔وائلڈ لائف حکام نے اورماڑہ میں تعینات عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ محمود سگار کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھیں تاکہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے نایاب ریت کی لومڑیوں کی نگرانی کی جاسکے اور ان کے قدرتی مسکن کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جاسکیں۔
