بلوچستان اسمبلی اجلاس میں امان و امان کی بدترین صورتحال پر ارکان پھٹ پڑے، پولیس افسران کو طلب کرلیا

بلوچستان اسمبلی اجلاس

ماخذ: این این آئی

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، بارکھان میں دو بھائیوں کے قتل، خضدار اور قلات میں خواتین کے اغوا اور قتل کے واقعات، منشیات کے پھیلاو¿ اور پولیس نفری کی کمی پر ارکان نے شدید تشویش کا اظہار جبکہ اسپیکر کیپٹن (ر ) عبدالخالق اچکزئی نے خضدار اور قلات کے واقعات سے متعلق رپورٹس طلب کرتے ہوئے متعلقہ ڈی آئی جیز کو ایف آئی آر سمیت ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی رولنگ دے دی۔ اجلاس میں آبی وسائل کے انتظام و انصرام کا مسودہ قانون 2026 منظور کرلیا گیا، جبکہ کورم کی نشاندہی پر اجلاس 16 اکتوبر سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ بدھ کو اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بارکھان میں دو روز قبل دو غریب بھائیوں کی لاشیں پھینکی گئیں، جنہیں بی ایل اے کی جانب سے اٹھایا گیا تھا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا وہ بلوچ نہیں تھے اور کس بنیاد پر ان غریب کسانوں کو شہید کیا گیا؟ سردار عبدالرحمان کھیتران نے دونوں بھائیوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ این 25 شاہراہ پر پلوں کو دھماکوں سے اڑانے کا نقصان عام مسافروں اور صوبے کے عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ان کی درخواست پر ایوان میں دونوں بھائیوں کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔صوبائی وزیر علی مدد جتک نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ بلوچ نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں اور بیرونی سرپرستی پر پل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔اجلاس میں رکن اسمبلی زمرک خان اچکزئی نے قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق توجہ دلاو¿ نوٹس پیش کرتے ہوئے حکومت سے پوچھا کہ علاقے میں بگڑتی صورتحال پر قابو پانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بتایا کہ گزشتہ دو سال کے دوران قلعہ عبداللہ میں متعدد اقدامات کیے گئے، دو نئے تھانے قائم کیے گئے، پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھائی گئی اور قبائلی تنازعات حل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔زمرک اچکزئی نے کہا کہ بنیادی مسائل حل کرنا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ قلعہ عبداللہ ماضی میں افیون کی کاشت کے حوالے سے بدنام تھا، تاہم سنجیدہ اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے منشیات کی کاشت دیگر علاقوں تک پھیل گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کے حلقے میں پولیس کے تین افسران اور 200 اہلکاروں کی آسامیاں خالی ہیں۔ زمرک اچکزئی نے کہا کہ پولیس بھرتیوں کا عمل اتنا سخت کردیا گیا ہے کہ اہلکاروں کی دستیابی متاثر ہورہی ہے، جبکہ منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید مو¿ثر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ قلعہ عبداللہ میں امن قائم ہونے سے پورے پشتون خطے میں امن کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ قانون اور آئین ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ قلعہ عبداللہ، چمن، زیارت اور گردونواح میں امن و امان کی صورتحال کے باعث لوگ سفر کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر ان کیمرہ اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی۔ اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے اسے اچھی تجویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں وزیراعلیٰ بلوچستان سے مشاورت کی جائے گی۔رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کا مسئلہ سنگین ہے اور شاہراہیں محفوظ نہیں رہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ منشیات چاکلیٹ کی طرح فروخت ہورہی ہے اور حکومت و متعلقہ ادارے اس کی روک تھام میں ناکام ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھے ارکان کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ حکومت چلانے کا مطلب عوام کے مسائل حل کرنا ہے۔ مولانا ہدایت الرحمان نے مزید کہا کہ رشتے کے تنازعات پر لڑکیوں کے اغوا کے واقعات پیش آرہے ہیں اور اسماء جتک کے والد کے قاتل تاحال گرفتار نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بااثر افراد اور اغواکاروں کے نام ایوان میں بتائے جاسکتے ہیں اور وہ پہلے بھی نام لے چکے ہیں۔صوبائی وزیر علی مدد جتک نے کہا کہ اسماء جتک کے واقعے کے بعد قلات میں لائبہ نچاری کو بھی رشتے کے تنازع پر اغوا کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اسماء جتک کے واقعے میں ملوث افراد کہاں ہیں اور خضدار کے واقعے کی ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کے خلاف اب تک کیا کارروائی ہوئی ہے۔علی مدد جتک نے مطالبہ کیا کہ آئی جی پولیس سے پوچھا جائے کہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جائے گی تو اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں جو سردار اور نواب افسران کو علاقوں سے نکلنے پر مجبور کرتے تھے، آج وہ خود علاقوں سے باہر ہوئے ہیں۔ ان کے بقول بلوچستان میں موجودہ بدامنی کی ایک وجہ سرداروں اور نوابوں کا کردار بھی ہے۔صوبائی مشیر کھیل مینا مجید بلوچ نے خواتین کے خلاف تشدد اور ظلم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قلات، خضدار اور جھالاوان کے علاقوں میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات اب بھی پیش آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسماء جتک کو پہلے اغوا کیا گیا اور بعدازاں ان کے خاندان کے تین افراد شہید ہوئے۔ مینا مجید بلوچ نے کہا کہ وہ بلوچستان کی بیٹیوں کی آواز ہیں اور خواتین کو خود کو تنہا نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایوان میں خواتین کے حقوق اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جاتی رہے گی۔بی این پی کے رکن اسمبلی جہانزیب مینگل نے کہا کہ وہ ہر قسم کے ظلم کی مخالفت کریں گے،جن افراد پر 100، 100 قتل کرنے کے الزامات ہیں، وہ کتنی مرتبہ گرفتار ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس روز ڈی آئی جیز پولیس کو ایوان میں طلب کیا جائے، انہیں بھی بلایا جائے تاکہ وہ ثبوت پیش کرسکیں۔اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے خضدار اور قلات کے واقعات کی رپورٹس طلب کرتے ہوئے رولنگ دی کہ متعلقہ ڈی آئی جیز کو ایف آئی آر سمیت ذاتی حیثیت میں ایوان میں پیش ہونے کے لیے طلب کیا جائے۔اجلاس میں صوبائی وزیر میر محمد صادق عمرانی نے بلوچستان آبی وسائل کے انتظام و انصرام کا مسودہ قانون 2026پیش کیا، جسے ایوان نے منطور کرلیا ۔ اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ وفاقی حکومت میں بلوچستان کے افسران کی نمائندگی پہلے ہی کم ہے، جبکہ حال ہی میں صوبے کے 11 سیکشن افسران کو واپس بلوچستان بھیج دیا گیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھا جائے اور وفاقی حکومت سے بات کی جائے تاکہ بلوچستان کے افسران کی نمائندگی کے مسئلے کو حل کیا جاسکے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے زرعی کھاد پر پابندی کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے صوبے کے زمیندار متاثر ہورہے ہیں۔اجلاسم یں رکن اسمبلی زرک خان مندوخیل نے بلوچستان میں طویل عرصے سے آباد افراد کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں آباد بعض لوگوں کو سیٹلر کہا جاتا ہے، حالانکہ وہ یہاں برسوں سے رہ رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کو لوکل سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں۔اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ یہ قانونی معاملہ ہے جس کا جائزہ لینا ہوگا، اس لیے رکن اسمبلی اس معاملے کو قرارداد کی صورت میں ایوان میں پیش کریں۔اجلاس میں کلائمٹ چینج، انوائرنمنٹ اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ آرگنائزیشن بلوچستان کی مالی سال 2025-26 کی آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی۔ اس کے علاوہ کیچ ڈیلے ایکشن ڈیم اور سراخلہ ایریا کوئٹہ سے متعلق سال 2025-26 کی آڈٹ رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی گئی۔دونوں آڈٹ رپورٹس کو مزید جائزے کے لیے پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔اجلاس کے دوران کورم کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 16 اکتوبر سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔