جیونی میں اسپیڈ بوٹ پر فائرنگ، دو افراد زخمی، گوادر میں کشتی ڈوبنے سے ناخدا جاں بحق، 6 ماہی گیر لاپتا

گوادر میں کشتی ڈوبنے

ماخذ: یو این اے

گوادر (یو این اے)گوادر کے علاقے جیونی کے سمندر میں مسلح افراد نے ایرانی تیل لانے والی ایک اسپیڈ بوٹ پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں دو مزدور زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر گوادر کے جی ڈی اے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔تفصیلات کے مطابق زخمیوں کی شناخت نال، ضلع خضدار کے رہائشی قمبر ولد محمد قاسم اور عرفان ولد قمیسہ مینگل کے نام سے ہوئی ہے۔اسپیڈ بوٹ کے عملے کے مطابق مبینہ طور پر کچھ عرصے سے مسلح افراد ان سے بھتے کا مطالبہ کررہے تھے اور رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دے چکے تھے۔ عملے کے مطابق فائرنگ کا واقعہ اسی پس منظر میں پیش آیا، تاہم اس الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ رکن بلوچستان اسمبلی اور ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں سے مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب گوادر کے ساحلی علاقے پیشکان اور گنز کے درمیان سمندر میں ماہی گیری کی کشتی ڈوبنے سے ناخدا جاں بحق جبکہ چھ ماہی گیر لاپتا ہوگئے۔ لاپتا افراد میں سے تین کا تعلق صوبہ سندھ سے بتایا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کشتی مچھلیاں پکڑنے کے لیے پیشکان اور گنز کے درمیان سمندری علاقے میں موجود تھی کہ حادثے کا شکار ہوگئی۔ کشتی میں سوار سات ماہی گیر سمندر میں ڈوب گئے، جن میں سے ناخدا لعل محمد بلوچ کی لاش برآمد کرلی گئی ہے، جبکہ دیگر چھ ماہی گیروں کی تلاش جاری ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع کے باوجود سرکاری ریسکیو ٹیم تاحال جائے وقوعہ پر نہیں پہنچی، جس کے باعث مقامی ماہی گیروں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ ماہی گیر اپنی کشتیوں کے ذریعے سمندر میں لاپتا ساتھیوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔حادثے کے بعد لاپتا ماہی گیروں کے اہل خانہ اور مقامی آبادی میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مقامی ماہی گیر اپنی سطح پر تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ لاپتا افراد کی بحفاظت بازیابی کے لیے فوری ریسکیو کارروائیوں کی ضرورت ہے۔