اسلام آباد میں لائبہ اعجاز کیس کا مرکزی ملزم کوئٹہ کا رہائشی اینٹی کرپشن کا جعلی اہلکار نکلا، دیگر فراڈ کا بھی انکشاف

لائبہ اعجاز کیس

ماخذ: یو این اے

کوئٹہ/ اسلام آباد (یو این اے، ویب ڈیسک) اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کے معاملے کے مرکزی ملزم محمد نعمان کا تعلق کوئٹہ کے علاقے جوائنٹ روڈ سے نکلا ہے۔ ملزم نے اینٹی کرپشن بلوچستان کا جعلی سروس کارڈ بھی بنا رکھا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ملزم کوئٹہ میں بھی متعدد افراد سے لاکھوں روپے کا مبینہ فراڈ کر چکا ہے۔ اسلام آباد میں لائبہ کیس کے سلسلے میں محمد نعمان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ کوئٹہ میں مبینہ فراڈ کے واقعات اور دیگر معاملات کی تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ دریں اثناءاسلام آباد کی طالبہ لائبہ اعجاز کے مبینہ ویزا فراڈ کیس میں پولیس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مرکزی ملزم نعمان نے مبینہ طور پر چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے جعلی شناختیں بنائیں اور مختلف افراد کا روپ دھار کر طالبہ کو دھوکے میں رکھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے تین مختلف اکاو¿نٹس بنا رکھے تھے اور ان کے ذریعے تین افراد کا کردار خود ادا کرتا رہا۔ لائبہ کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے بھی وہ چیٹ جی پی ٹی سے مدد لیتا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لائبہ اور نعمان کا پہلا رابطہ مارچ 2023 میں اس وقت ہوا جب طالبہ نے ایک انشورنس کمپنی میں انٹرن شپ کے لیے درخواست دی۔ نعمان 2022 تک تقریباً 15 سال اینٹی کرپشن کے محکمے میں ملازمت کرتا رہا، تاہم غیر حاضری کی بنیاد پر اسے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں وہ مختلف انشورنس کمپنیوں میں منیجر کے طور پر کام کرتا رہا۔پولیس ذرائع کے مطابق نعمان نے 2025 میں بلیو ایریا کی ایک انشورنس کمپنی میں ملازمت اختیار کی اور عملے کی ضرورت کے باعث لائبہ سے دوبارہ رابطہ کیا۔ طالبہ ٹیوشن پڑھانے کی وجہ سے دفتر میں کام شروع نہ کر سکی، تاہم بعد میں ملزم نے لائبہ، اس کی بہن اور والدہ کو ٹک شاپ کی تشہیر کے کام پر رکھ لیا۔ عائزہ نامی ایک لڑکی ٹک شاپ کا انتظام سنبھالتی تھی، جبکہ اس کا بھائی امریکا میں مقیم تھا۔ذرائع کے مطابق لائبہ نے عائزہ کے بھائی کے ذریعے امریکی ویزا حاصل کرنے کے معاملے میں نعمان سے مدد طلب کی۔ الزام ہے کہ ملزم نے عائزہ اور اس کے بھائی کی شناخت استعمال کرتے ہوئے الگ اکاو¿نٹس بنائے اور چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے ان کے کردار ادا کرتا رہا۔ اس دوران اس نے طالبہ کو ویزے سے متعلق دستاویزات بھی فراہم کیں، جن پر ابتدا میں لائبہ کو شبہ نہیں ہوا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے امریکی ویزا انٹرویو کے لیے پہلے یکم ستمبر، پھر 17 ستمبر اور بعد ازاں 26 ستمبر کی تاریخ بتائی۔ مسلسل تاریخیں تبدیل ہونے پر لائبہ کو شک ہوا اور اس نے دستاویزات کی جانچ کی تو وہ جعلی نکلیں۔ ذرائع کے مطابق لائبہ نے اس معاملے میں اپنے والد سے 21 لاکھ روپے مالیت کا پلاٹ فروخت کروا کر رقم حاصل کی تھی، جبکہ اپنی سوتیلی والدہ کے زیورات بھی نعمان کو دیے تھے۔ دستاویزات جعلی سامنے آنے کے بعد لائبہ نے ملزم سے مطالبہ کیا کہ کم از کم اس کی سوتیلی والدہ کے زیورات واپس کر دیے جائیں اور باقی رقم کا معاملہ بعد میں دیکھا جائے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے لائبہ سے رابطہ کم کر دیا اور پھر اسے نظر انداز کرنے لگا۔ زیورات کی واپسی اور رقم کے معاملے پر دباو¿ کے دوران لائبہ شدید پریشانی کا شکار ہوئی، جس کے بعد اس کی خودکشی کا واقعہ پیش آیا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ نعمان نے دیگر خواتین کو بھی اسی نوعیت کے فراڈ کا نشانہ بنایا ہو سکتا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتاری میں تاخیر کے دوران ملزم نے اپنے موبائل فون سے ڈیٹا حذف کر دیا تھا۔ اب فون کے فارنزک تجزیے کے ذریعے ڈیٹا بحال کرنے اور ممکنہ دیگر متاثرین تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔