شہریوں کا انخلا مسئلے کا حل نہیں، لاک ڈاﺅن اور محاصرے کے باوجود قتل و غارت حکومتی ناکامی ہے، آل پارٹیز نوشکی

آل پارٹیز نوشکی

نوشکی (ویب ڈیسک) آل پارٹیز نوشکی کا مختلف مسائل پر ایک اہم اجلاس افضل المدارس میں امیر جماعت اسلامی مولوی محمد قاسم مینگل کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بی این پی کی مرکزی کمیٹی کے رکن میر خورشید احمد جمالدینی، جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا منظور احمد مینگل، جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر حافظ مطیع الرحمان مینگل، نیشنل پارٹی کے ضلعی لیبر سیکرٹری میر لیاقت بادینی، پاکستان پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری ابراہیم بلوچ، اہلِ سنت و جماعت کے ضلعی صدر حافظ محمد ابراہیم، جے یو آئی کے ضلعی میڈیا کوآرڈینیٹر مولانا محمد زکریا عادل، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی نائب صدر حاجی منیر احمد مینگل، زمیندار ایکشن کمیٹی کے رہنما مولوی عبدالصمد، جماعت اسلامی کے عبدالباسط ساسولی و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں نوشکی میں امن و امان، لاک ڈاﺅن سے پیدا ہونے والی مشکلات،، این-40 پر رکاوٹیں، زخمیوں اور میتوں کو چیک پوسٹوں پر روکنے، راستوں کی بندش سے تعلیمی اداروں کے متاثر ہونے، بٹو تا جورکین آبادی کے سیکورٹی کے نام پر انخلا، شہر سمیت ضلع کو چوروں اور ڈاکوﺅں کے حوالے کرنے، امن و امان کی مخدوش صورتِ حال، زمینداروں کو کھاد کی عدم دستیابی اور مارکیٹ تک رسائی نہ ہونے سے متعلق مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں ان مسائل کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال، عوام کو درپیش مسائل، مشکلات اور تکالیف کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ مصیبت اور مشکل کی گھڑی میں نوشکی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ شہر کو ڈاکوﺅں کے حوالے کرنا حکومتی ناکامی ہے۔ بندوق کی نوک پر روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ لوگوں کی جان و مال غیر محفوظ ہیں، اب ڈاکو گھروں میں گھس کر وارداتیں کرنے لگے ہیں۔ بٹو تا جورکین آبادی کا انخلا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اسپتال اور تعلیمی اداروں کی بندش سے مریضوں، طلبہ و طالبات اور اساتذہ کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ شہر کو خندقیں کھود کر کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ موجودہ حالات میں نوشکی کے تاجر ماہانہ کرایہ تک ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آل پارٹیز ان مسائل پر سول سوسائٹی، معتبرین، انجمن تاجران، علمائے کرام اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔