تیسری عالمی جنگ کے بعد عالمی مبصرین کا اندازہ تھا کہ چونکہ اس جنگ میں چین اور روس نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کی مدد کی ہے تو اب عالمی طاقتیں یعنی امریکہ، چین اور روس آمنے سامنے ہوں گے۔ ان ممالک کے مفادات کا کھلا کھلم ٹکراو¿ کوئی اچھی خبر نہیں لائے گا مگر سپر پاور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاشی طاقتور چین سے کسی بھی قسم کی ناراضگی کی خبروں سے صاف انکار کر دیا ہے۔
امریکہ،اسرائیل، ایران اور اس کے نتیجے میں لپیٹ میں آنے والے خلیجی ممالک کی جنگ بندی میں توسیع دی جا چکی ہے۔ اور اسی کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحیت والے بیانات، ٹویٹس اور اعلانات جھاگ کی طرح بیٹھ چکے ہیں۔ یہ خوش آئند بات ہے کیونکہ امریکہ نے جنگ کا وقت چار سے پانچ ہفتے مقرر کیا تھا۔ ایران کو بذریعہ پاکستان امن مذاکرات کی دعوت بھی بار ہا امریکہ کی جانب سے ہی دی گئی تھی۔ پاکستان کے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں امن مذاکرات کے ادوار چل رہے ہیں۔ امریکی صدر ایران میں رجیم چینج کا نعرہ بھی بھلا بیٹھے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع بھی دی ہے۔ اور اب بھی امریکہ، ایران اس سنگین مسئلے کو مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کی یہ پالیسی امریکہ کے ماضی کی پالیسیوں کے برعکس ہے مگر دنیا میں امن کی بحالی کیلئے کار آمد نسخہ ہے۔
امریکہ، ایران یا پھر یہ کہا جائے کہ اسرائیل، ایران کشیدگی بہت عرصے سے تھی اور اس بھیانک جنگ کی توقع بھی کی جا رہی تھی۔ اسی صورتحال کے پیش نظر ایران کی مدد اور جنگ میں سٹرٹیجی کی مکمل تیاری چین اور روس نے کرائی تھی۔ اس تیاری میں امریکی، اسرائیل کی بمباری کو روکنے کیلئے امریکہ، اسرائیل کے پاس موجود ائیر بیسس اور ائیر ڈیفنس سسٹم کے راستے بند کرنا مقصود تھا۔ ایران نے چھ خلیجی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین اور عمان میں امریکی فضائی اڈوں اور اطراف کے علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی ڈرون اور میزائل حملے کئے۔ متضاد اطلاعات کے مطابق ایران کو سیٹلائٹ کی مدد سے یہ اہم لوکیشنز فراہم کی گئیں تھیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ چین نے جنگ میں ایران کو جنگی ہتھیار فراہم نہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم چین کی وزارت خارجہ نے ایران کو ہتھیار نیز جدید میزائل فراہم کرنے کی خبروں کی تردید کر دی تھی۔ یہ تھی ایران کی جوابی کارروائی جس کی وجہ سے امریکہ نے جنگ کا رخ عالمی پانیوں کی طرف موڑا اور آبنائے ہرمز سمیت پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیلات کی آبی گزر گاہوں میں ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر پریس کانفرنسز کر رہے ہیں۔ حالیہ پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے چین کی ایران کو مدد کے حوالے سے سوال کیا۔جس کے جواب میں امریکی صدر نے انتہائی اطمینان کے ساتھ کہا کہ انہیں ایران کی مدد کرنے پر چین سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا امریکہ بھی ایسا ہی کرتا ہے دوسرے ممالک کے ساتھ۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔
امریکہ اور چین دو عالمی معیشتوں کے درمیان معاشی تنازعات موجود ہیں۔ سال 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی منڈی میں چینی مصنوعات پر اضافی ٹیکسز/ ٹیرف عائد کرنا شروع کئے تھے۔ بڑے بڑوں کی جنگ ہے۔ واقعی اس میں بڑی معیشتوں کے مفادات چھپے ہوئے ہیں۔ اور انہی مفادات اور سرمایہ کاری کا تحفظ کرتے ہوئے امریکی صدر نے چین کے ساتھ لفظی محاز آرائی سے بھی گریز کیا ہے۔ یہ امریکہ کا پالیسی بیان ہے جو کسی بھی بڑے ملک اور توانا معشیت سے لڑنا نہیں چاہتا ہے۔ اس وقت امریکہ چین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ملک ہے۔ سال 2025 میں انکی تجارت کا حجم 560 بلین ڈالر ریا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ جاری ہے۔ جسے براہ راست یا ایران جنگ میں پراکسی کی صورت میں طول دینے سے امریکی صدر نے انکار کر دیا ہے۔
امریکہ ایران جنگ میں سرمایہ محفوظ
