سوات سے سبی تک پشتونخوا وطن پر بدترین جعلی دہشت گردی مسلط کی گئی ہے، خوشحال خان کاکڑ

خوشحال خان کاکڑ

قلعہ سیف اللہ (آن لائن) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پشتونخوا وطن کی تمام سیاسی، جمہوری اور مذہبی پارٹیاں اور ہر طبقہ فکر کے عوام باہم متحد ہو کر مشترکہ ایجنڈے کے تحت مشترکہ جدوجہد اور تحریک کا آغاز کریں۔ پشتونخوا نیپ اس جدوجہد اور تحریک میں صف اول کا کردار ادا کرتے ہوئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی اور پشتونخوا نیپ کی قیادت اور کارکن کسی قسم کے کریڈٹ کے امیدوار نہیں۔ ارواشاد سردار محمد عثمان خان جوگیزئی کا خاندان احمد شاہ بابا کے وقت سے ہمیشہ بااثر خاندان کی حیثیت کا مالک ہوتے ہوئے وطن اور عوام کی خدمت میں ایماندارانہ کردار ادا کرتا آیا ہے اور اپنے غیور عوام کے ساتھ مثبت، بہترین تعلقات اور انسانی و پشتنی اعلی اقدار کے تحت تعلقات رکھتے رہے ہیں اور سیاست میں ہمیشہ باوقار کردار کے مالک رہے ہیں۔ سردار محمود خان جوگیزئی اور ان کے ساتھیوں کی پارٹی میں شمولیت ہم سب کے لیے قابل فخر اور قابل تحسین ہے۔ وہ کلی تلری جوگیزئی میں ارواشاد سردار محمد عثمان خان جوگیزئی کی رہائش گاہ پر پارٹی میں شمولیت کی پروقار تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جس سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اللہ نور خان، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری مالیات سید اکبر کاکڑ، ضلع قلعہ سیف اللہ اول کے ضلع سیکرٹری شمس رودوال، مرکزی کمیٹی کے رکن حاجی اللہ یار جوگیزئی اور سردار محمود خان جوگیزئی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر 88 خاندانوں نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ ہمارے عظیم اکابرین اور مشران کی وطن دوست فکر و جدوجہد اور لازوال قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ ہمارے غیور عوام مسلسل اپنی قومی نجات کے لیے پشتونخوا نیپ میں شامل ہو رہے ہیں۔ ہمارے غیور عوام کی محبت اور ہمدردی یہ ثابت کرتی ہے کہ پشتونخوا نیپ ہر پشتون کی دوسری پارٹی ہے اور پارٹی سے ہمارے عوام کی امیدیں برحق ہیں۔ پارٹی اپنے عوام کی حقیقی غمخوار اور چوکیدار پارٹی کا کردار ادا کرتے ہوئے ان کی امیدوں پر پورا اترے گی۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ آج کے حالات میں پشتون ملت ہر شعبہ زندگی میں بدترین بحرانوں اور اذیت ناک مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، مسلط جعلی دہشت گردی، معاشی قتلِ عام، نسل کشی، سر و مال اور عزت کے عدم تحفظ اور بدترین بدامنی و لاقانونیت پشتونخوا وطن اور پشتون قوم پر مسلط کی گئی ہے۔ پشتونوں کے ہر کاروبار و تجارت کو چھین لیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں گزشتہ تین ماہ کے دوران 12 ارب روپے کے قریب نقصانات ہوئے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ شوراوک سے لے کر چترال تک ہر قسم کی تجارت اور کاروبار پر بلاجواز، غیر قانونی اور غیر انسانی بنیادوں پر پابندی عائد کی گئی ہے اور ڈیورنڈ لائن پر سالانہ 250 ارب ڈالر سے زائد کی تجارت ہوتی تھی، جو اب صفر ہو کر رہ گئی ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال وطن کے مالک عوام دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں۔ بجلی پیدا کرنے کے ہر ذریعے کا مرکز پشتونخوا وطن ہے اور کارخانوں کے لیے ہر قسم کا خام مال پشتونخوا وطن میں پیدا ہوتا ہے۔ صرف تربیلا ڈیم سالانہ 20 ارب یونٹ بجلی پیدا کرتا ہے، لیکن پشتونخوا وطن کے عوام بجلی، کارخانوں سمیت ہر قسم کے روزگار کے ذرائع سے محروم رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی قسم کے تعصب اور نفرت پر یقین نہیں رکھتے۔ پشتون اور بلوچ وطن کی تقسیم واضح اور معلوم ہے، لیکن اس دو قومی صوبے میں پشتون عوام کو دس فیصد نوکری اور بجٹ تک نہیں ملتے۔ ہم سے ہماری قومی شناخت اور قومی تشخص تک چھینا گیا ہے۔ تمام ملک میں کاروبار، تجارت، محنت مزدوری، تعلیم اور وہاں رہنا ہمارا آئینی حق ہے، لیکن کراچی سمیت تمام سندھ اور پنجاب میں پشتونوں کا یہ آئینی حق تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ حتی کہ راولپنڈی، اسلام آباد میں پشتونوں کا سر و مال اور عزت محفوظ نہیں۔ اپنے موبائل کی قیمت مانگنے پر بلاجواز پشتون نوجوان کو راولپنڈی میں شہید کیا گیا اور اس نوجوان کی لاش اور اس کی بیوی کو لاک اپ میں بند کیا گیا، جبکہ اس کے معصوم بچے باہر آہ و زاری کرتے رہے۔ اس اذیت ناک طرز عمل کی کون سا اسلام، قانون اور انسانیت اجازت دیتا ہے، جو ہمارے پشتون عوام کے ساتھ اس ملک میں اسلام کے نام پر مسلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات سے سبی تک پشتونخوا وطن پر بدترین جعلی دہشت گردی مسلط کی گئی ہے اور دوسری طرف نام نہاد آپریشن کے نام پر پشتونخوا وطن کو بلڈوزروں سے تباہ کر کے تمام انفراسٹرکچر ختم کر دیا گیا۔ ہر نام نہاد آپریشن کا نتیجہ پشتونخوا وطن اور پشتون قوم کی تباہی و بربادی پر منتج ہوا اور اب کسی قسم کا آپریشن قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کے نام پر قوموں کے قومی وجود، جغرافیہ اور قومی تشخص و قومی واک و اختیار ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ پشتون غیور عوام کو اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے قومی اتحاد و اتفاق کے ساتھ آواز بلند کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا نیپ کی قیادت اور کارکنوں کی تمام جدوجہد اور قربانیاں پشتونخوا وطن کی قومی وحدت کی بحالی، قومی آزادی، قومی واک و اختیار کے حصول، پشتونخوا وطن کے معدنی وسائل پر قومی کنٹرول حاصل کرنے، پشتون قوم کی ترقی و خوشحالی، قومی برابری اور سیالی کے لیے ہیں۔ پشتونخوا نیپ کے کارکنوں کو اس سنگین صورتحال کا احساس کرتے ہوئے اپنی جدوجہد مزید تیز اور دوبالا کرنی ہوگی اور وقت آنے پر ہر قسم کی قربانیوں کے لیے تیار رہنا ہوگا، کیونکہ پشتونخوا وطن اور پشتون قوم پر مسلط اذیت ناک ظلم و جبر اور ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا تضحیک آمیز رویہ اور منفی طرزِ عمل مزید ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز نوجوان قبائلی رہنما سردار محمود خان جوگیزئی اور ان کے ساتھیوں کی پارٹی میں شمولیت ہمارے لیے مزید تقویت کا باعث ہے اور اس خاندان کا قبائلی و سیاسی میدان میں بہت اچھا، موثر، مثبت اور بااثر کردار رہا ہے، جو قابل تحسین ہے۔ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو اپنی عوامی رابطہ مہم مزید تیز کرنی ہوگی۔