حب پولیس کی حراست میں نوجوان کی موت کیخلاف ورثاءنے دھرنا دیدیا

حب نوجوان کی موت کیخلاف دھرنا

حب (ویب ڈیسک) پولیس کی حراست میں نوجوان کی مبینہ ہلاکت کے خلاف ورثاءکا لاش بھوانی کے قریب قومی شاہراہ پر رکھ کر احتجاج و دھرنا، شاہراہ ٹریفک کے لیے بلاک، چھوٹی بڑی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ بعد ازاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کردیا گیا۔ ،تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز پولیس کی حراست میں ذوالفقار نامی نوجوان کی مبینہ ہلاکت کے بعد ورثاءاور اہلخانہ نے لاش قومی شاہراہ پر رکھ کر احتجاج مظاہرہ اور دھرنا دیا۔ مظاہرین نے بھوانی کے قریب کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو بلاک کرکے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ،لواحقین نے احتجاج کے دوران موقف اختیار کیا کہ ذوالفقار کو 8 اگست کو حب سٹی پولیس نے گرفتار کیا اور زخمی کیا، تاہم انہیں بروقت اور مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ ورثاءکے مطابق زخمی نوجوان کو گزشتہ روز پولیس کسٹڈی میں گڈانی جیل منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں اہلخانہ کو اس کے انتقال کی اطلاع دی گئی۔ نوجوان کی ہلاکت کے بعد ورثاءنے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ دوسری جانب سینٹرل جیل گڈانی کے جیلر مطابق حب سٹی پولیس نے ذوالفقار نام نوجوان کو زخمی حالت میں 15اگست کی شام کو سینٹرل جیل گڈانی منتقل کیا تھا جس کے بعد مذکورہ نوجوان کی 15 اور 16 اگست کی درمیانی شب حالت خراب ہوگئی جسے بعد ازاں جام غلام قادر گورنمنٹ اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں پر ڈاکٹرز نے انکی مو ت کی تصدیق کردی۔