کوئٹہ (ویب ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور رکن بلوچستان اسمبلی اصغر خان اچکزئی نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تمام بلوچ بیلٹ میں کرفیو نافذ ہے ، بنگال میں بھی قوم کو آخری لمحے تک یہی بتایا جاتا رہا کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے، اور پھر صبح ہوتے ہی اعلان کر دیا گیا کہ ایک نیا ملک وجود میں آ گیا ہے، تمام بلوچ بیلٹ میں کرفیو نافذ ہے، جبکہ سندھ کا شہزادہ اور پنجاب کی شہزادی کشمیر کے انتخابات میں مصروف ہیں۔ نہ انہیں جلتا ہوا پختونخوا نظر آ رہا ہے اور نہ ہی بلوچستان۔ اے این پی رہنما اصغر خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس بلوچ پر شروع ہو کر پشتون پر ختم ہوتی ہے۔ بلوچستان کے سرداروں کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ ان کے اپنے ہی سردار پارلیمنٹ میں موجود ہیں، پھر سمجھ نہیں آتی کہ انہیں مسئلہ آخر کس سے ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ محسن نقوی کون ہے اور اس کی حیثیت کیا ہے؟ جبکہ خود وزیر دفاع کہتے ہیں کہ محسن نقوی سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ اصغر اچکزئی نے مزید کہا کہ آپ اس کوشش میں ہیں کہ گوادر کو بلوچستان کے دائرہ اختیار سے نکال کر وفاق کے حوالے کر دیا جائے، یا پتہ نہیں اسے چین کی گود میں ڈال دیا جائے یا امریکہ کی، آپ نے جو کچھ طے کر رکھا ہے وہ قوم کے سامنے لائیں، لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم روز لاشیں اٹھائیں اور خاموش رہیں۔
بلوچ بیلٹ میں کرفیو ہے، ان کے سردار پارلیمنٹ میں ہیں، روز لاشیں اٹھاکر خاموش نہیں رہ سکتے، اصغر اچکزئی
