اشاعتی ڈیسک: روزنامہ بلوچستان نیوز ویب ڈیسک
کوئٹہ (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ صابر علی بلوچ نے کہا ہے کہ مجھے نہیں لگتا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ان حالات میں کوئی حکومتی ذمہ داری قبول کریں گے، ان کی پارٹی بلوچستان میں ویسے ہی حکومت کا حصہ ہے اور یہ بات ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خود بلوچستان اسمبلی میں کہی ہے، بلوچستان بدقسمتی سے بڑے نازک دور سے گزر رہا ہے اور کسی طرف سے بھی کسی قسم کی لچک نظرنہیں آرہی ہے، سیاسی معاملات کو کو غیر سیاسی لوگوں کے ہاتھوں میں دیا گیا ہے، جو اپنے مفادات کو بلوچستان کے لوگوں کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کیا ہے۔ صابر علی بلوچ نے کہا ہے کہ فارم 47 کے تمام ممبران جعلی طریقے سے منتخب کئے گئے ارکان اسمبلی صرف او صرف کرپشن اور انتہائی بھونڈے طریقے سے کھلم کھلا مالی کرپشن کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام وزراءچاہے وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ہوں یادوسری پارٹی والے یہ سب ایک دن وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ساتھ ہوتے ہیں اور دوسرے دن اس کے مخالف بن جاتے ہیں،ان سب نے اپنے مفادات کی خاطر وزیراعلیٰ بلوچستان کی زندگی تلخ بنا دی ہے، حکومتیں ایسے نہیں چلا کرتیں۔صابر علی بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں میر صادق عمرانی کو چھوڑ کر پاکستان پیپلزپارٹی کے تمام وزراءایک بھی پی پی پی کا نمائندہ نہیں ہے، یہ ہمیشہ پی پی پی کے دشمن رہے ہیں اور یہ ہر جگہ کہتے پھرتے ہیں کہ غیر سیاسی قوتوں سے ہدایات ملتی ہیں اور انہیں بدنام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ حکومت بلوچستان میں حالات کو ٹھیک نہیں کر سکتی تو پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کو چاہیے کہ وہ کم از کم پی پی پی کو اس بدنامی سے بچائے، پاکستان پیپلزپارٹی ایک بڑی جماعت ہے اور اس کی بڑی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری دل سے چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کو حق حکمرانی ملے، امن وامان کی حالت بہتر ہو، یہ تمام چیزیں جبر اور طاقت کے زور پر نہیں ہو سکتیں، سیاسی لوگوں پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بلوچستان حکومت میں پی پی پی اور ن لیگ سمیت سب ممبران نے کرپشن کا بازارگرم کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو وزراءکہتے ہیں کہ ہم اپنے اپنے علاقوں میں نہیں جا سکتے، تو دوسری جانب فنڈ کا رونا روتے ہیں اور ترقیاتی فنڈ فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں، جب وہ اپنے اپنے علاقوں میں جا نہیں سکتے تو فنڈ کہاں خرچ کریں گے اور ترقیاتی کاموں کی نگرانی کیسے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے وزراءکو تو کم از کم ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ آصف علی زرداری اورچیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو کیا منہ دکھائیں گے۔
