کوئٹہ، زیارت (یو این اے) ضلع زیارت میں 27 جون کو پیش آنے والے دہشت گرد حملے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اہم انتظامی اقدام اٹھاتے ہوئے بلوچستان پبلک آرڈر مینٹیننس آرڈیننس 1960 کے سیکشن 3(1) کے تحت چار افراد کو ایک ماہ کے لیے نظر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ سرکاری حکم نامے کے مطابق نظر بند کیے گئے افراد کو ضلع کچھی کی مچ جیل منتقل کیا جائے گا، جہاں وہ ایک ماہ تک زیر حراست رہیں گے۔حکم نامے کے مطابق یہ فیصلہ 27 جون 2026 کو زیارت کے سیاحتی مقام پروسپیکٹ پوائنٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور امن عامہ سے متعلق خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق حملے کے دوران سپرنٹنڈنٹ آف پولیس زیارت، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار زخمی، ایک شہری جاں بحق جبکہ ایک اور شہری زخمی ہوا تھا۔ڈپٹی کمشنر کے حکم کے مطابق بعض افراد کی سرگرمیوں کو ریاستی مفادات اور امن عامہ کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے انسدادی کارروائی ضروری سمجھی گئی۔ حکم نامے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعلقہ افراد پر ریاست مخالف تقاریر اور نعرے لگانے، عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے اور دہشت گرد حملے کے بعد جاری سرکاری کارروائی میں مداخلت کرنے کے الزامات ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ ان افراد نے ڈپٹی کمشنر آفس زیارت کے سامنے دھرنا بھی دیا، جس سے سرکاری امور اور امن و امان متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔ سرکاری احکامات کے مطابق نظر بند کیے گئے افراد میں دلاور خان کاکڑ، مولوی نور الحق، نور محمد اور محمد دین شامل ہیں، جنہیں ایک ماہ کے لیے مچ جیل منتقل کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ حکم نامے کے تحت دورانِ نظر بندی صرف قریبی خونی رشتہ داروں کو جیل قوانین کے مطابق ملاقات کی اجازت ہوگی، جبکہ دیگر افراد کی ملاقات پر پابندی عائد رہے گی۔ ڈپٹی کمشنر زیارت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ یہ اقدام سزا کے طور پر نہیں بلکہ امن عامہ، عوامی تحفظ اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے ایک احتیاطی انتظامی اقدام ہے، جس کا مقصد کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال کی روک تھام ہے۔
زیارت میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر چار اہم شخصیات ایک ماہ کیلئے نظر بند، مچھ جیل میں رکھنے کا حکم
