اسلام آباد (ویب ڈیسک) آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اعلان سے قبل قومی اقتصادی کونسل نے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3669 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے معاشی شرحِ نمو کا ہدف چار فیصد اور مہنگائی میں اضافے کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت میں قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وفاق اور صوبوں نے موجودہ حالات کے تناظر میں اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 1046 ارب روپے کی کمی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے وفاق کا ترقیاتی بجٹ 126 ارب روپے کی کمی کے بعد اب 1000 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں نے اپنے ترقیاتی پروگرامز کے لیے مختص بجٹ میں 920 ارب روپے کم خرچ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ کئی بار کی تاخیر کے بعد اسلام آباد میں منعقد ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو معاشی شرح نمو تیز کرنے کے مراعات متعارف کرانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام تو حاصل کرلیا لیکن اب ترقی کی رفتار کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور پیداوار بڑھے اور برآمدات میں اضافہ ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت خطے میں جاری جیو پولیٹیکل بحران کے باوجود بھی پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخوا سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی شریک ہوئے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنی علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہوسکیں۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت گزشتہ کئی ہفتوں سے بجٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ مشاورت کررہی ہے، وفاق اور صوبوں کے مابین ہم آہنگی ضروری ہے۔ اجلاس کے بعد پلاننگ کمیشن کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ وفاق اور صوبوں نے آئندہ مالی سال میں نئے ترقیاتی منصوبے نہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دفاعی سلامتی اور سیکورٹی کے لیے ضروری منصوبوں کے علاوہ آئندہ مالی سال میں کوئی نیا منصوبہ نہیں شروع کیا جائے گا۔ پلاننگ کمیشن کے مطابق پنجاب نے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 749 ارب روپے، سندھ نے 706 ارب روپے اور خیبر پختوانخوا نے 455 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے جبکہ بلوچستان حکومت ترقیاتی منصوبوں پر 308 ارب روپے خرچ کرے گی۔ تینوں صوبوں نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے سالانہ ترقیاتی پلان میں کمی کی ہے لیکن بلوچستان کے لیے مختص صوبائی ترقیاتی بجٹ میں کوئی کٹ نہیں لگایا گیا ہے۔ پاکستان کے زیر اتنظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 88.8 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ جبکہ خیبر پختونخوا میں ضم قبائلی اضلاع کی لیے 56 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
بجٹ میں وفاقی و صوبائی ترقیاتی پروگرام کیلئے 3669 ارب روپے منظور، بلوچستان کیلئے 308 ارب مختص
