ماخذ: آن لائن
کوئٹہ (آن لائن) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) بلوچستان نے ٹیکس وصولیوں کے خلاف صوبے بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان مطابق یکم نومبر سے سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز میں ایک گھنٹے کا علامتی بائیکاٹ کیا جائے گا جبکہ نجی اسپتالوں کی او پی ڈیز غیر معینہ مدت کے لیے بند رکھی جائیں گی۔ ہڑتال کے اعلان سے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں کے لیے مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹروں کا موقف ہے کہ طبی خدمات پر ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہیے اور وفاقی و صوبائی ٹیکسوں سے ان پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ خدمات پر ٹیکس کی وصولی قانون کے تحت کی جا رہی ہے۔ بی آر اے کے مطابق ڈاکٹروں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ حکومت نے طبی شعبے کو دیگر خدمات فراہم کرنے والے شعبوں کے مقابلے میں خصوصی رعایت دی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق ماضی میں ڈاکٹروں سے سیلز ٹیکس کے علاوہ پروفیشنل ٹیکس بھی وصول کیا جاتا تھا۔ پہلے پروفیشنل ٹیکس کی وصولی محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی ذمہ داری تھی تاہم فنانس ایکٹ 2026 کے تحت یہ ذمہ داری بی آر اے کو منتقل کردی گئی۔ بی آر اے کا کہنا ہے کہ بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2015 کے تحت خدمات پر عمومی ٹیکس کی شرح 15 فیصد ہے، تاہم نجی طور پر پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے خصوصی رعایت دی گئی ہے۔ ان سے دو فیصد یا ماہانہ تین ہزار روپے، جو بھی زیادہ ہو، وصول کیے جاتے ہیں۔ لیبارٹریوں کے لیے یہ شرح دو فیصد جبکہ اسپتالوں اور کلینکس کے لیے تین فیصد ہے۔ بی آر اے کے مطابق اس حساب سے ڈاکٹرز کی ایک ہزار روپے کی فیس میں صرف 20 روپے سروسز ٹیکس مقرر ہے جو باقی شعبوں کے مقابلے میں بہت کم ٹیکس ہے۔ بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں ٹیکس کی وصولی اور قوانین پر عملدرآمد کا نظام موثر نہیں تھا، اب بی آر اے کو ذمہ داری ملنے کے بعد ٹیکس رجسٹریشن، نوٹسز اور وصولی کے عمل کو تیز کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹیکس واجبات ادا نہ کرنے والے بعض ڈاکٹروں کے بینک اکاﺅنٹس بھی اٹیچ کیے گئے ہیں جس کے باعث وہ ٹیکس کی ادائیگی تک ان اکاﺅنٹس سے لین دین نہیں کرسکیں گے۔ بی آر اے کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین کا اطلاق صرف ڈاکٹروں تک محدود نہیں بلکہ وکلا سمیت دیگر پیشہ ورانہ شعبوں کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیکس قوانین اور نظام کا یکساں عملدرآمد اور صوبائی آمدن میں اضافہ ہے۔
