ژوب میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی مسلسل بندش کیخلاف آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کا احتجاجی مظاہرہ

ژوب آل پارٹیز ایکشن کمیٹی

ماخذ: آن لائن

ژوب (آن لائن) آ ل پارٹیز ایکشن کمیٹی کی جانب سے ژوب میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی مسلسل بندش، آٹے کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف بلدیہ چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کی صدارت آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کے صدر اور ٹرانسپورٹر عبدالجبار نے کی۔مظاہرے سے عبدالجبار کاکڑ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما نصیب خان ناصر، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اختر گل کاکڑ، پاکستان تحریک انصاف کے صمد خان مندوخیل، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر فہد خان مندوخیل، جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے محمد خان ناصر، عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر جمعہ خان بابر، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے ضلعی صدر عدنان حسین ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نصرالدین بابر ایڈووکیٹ اور مرکزی انجمن تاجران کے صدر عبد الجبار عرف طور مندوخیل نے خطاب کیا مقررین نے کہا کہ ژوب شہر میں انٹرنیٹ سروس کی بندش سے طلبا، تاجر اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں، تعلیمی سرگرمیاں اور کاروباری معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ شہر میں انٹرنیٹ سروس بند ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں، جہاں دہشت گردی کے واقعات پیش آتے ہیں، انٹرنیٹ سروس بحال ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کو بلاوجہ اس بنیادی سہولت سے محروم نہ رکھا جائے اور انٹرنیٹ سروس فوری بحال کی جائے مقررین نے شہر میں آٹے کی مصنوعی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سے گندم کی ترسیل جاری ہے، تاہم بلوچستان کو اس حوالے سے نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عوام کو آٹے کے حصول میں مشکلات اور مہنگائی کا سامنا ہے۔ انہوں نے ایف سی کی جانب سے اپوزئی روڈ کی بندش پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو آمدورفت کی سہولت سے محروم کرنا کسی صورت قبول نہیں، ائیرپورٹ روڈ کی بندش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نصرالدین بابر ایڈووکیٹ نے کہا کہ اپوزئی روڈ کی بندش کے خلاف تمام وکلاءکی جانب سے ژوب کی عدالت میں آئینی درخواست (سی پی) دائر کر دی گئی ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ انٹرنیٹ سروس فوری بحال، آٹے کی مصنوعی قلت ختم اور اپوزئی روڈ کھولنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ اور کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔