بلوچستان میں نئے صوبوں کے ساتھ چھوٹے ڈویژنز اور اضلاع بنانے کی بھی ضرورت ہے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

ماخذ: این این آئی

شمالی ڈیرہ بگٹی (این این آئی) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوہ سلیمان ڈویژن کی تمام ڈویژنل پوسٹوں کی منظوری دے دی گئی ہے اور ان پر افسران و عملے کی تعیناتی بہت جلد عمل میں لائی جائے گی۔ بلوچستان میں عوام کو ان کی دہلیز پر سرکاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے، صوبے میں نئے صوبوں کے ساتھ چھوٹے ڈویڑنز اور اضلاع بنانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ سول حکومت اور سرکاری محکموں تک عوام کی رسائی آسان بنائی جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شمالی ڈیرہ بگٹی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث اب شروع ہوئی ہے، جبکہ انہوں نے بلوچستان کے مخصوص حالات اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عمل پر دو سال قبل ہی کام شروع کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی ڈھانچے کو اس انداز میں تشکیل دینا ضروری ہے کہ ریاستی اداروں اور سول حکومت کی موجودگی عوام کے قریب ہو اور لوگوں کو سرکاری امور کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ رکھنی کو بلوچستان کا مثالی ڈویژن بنانے اور ترقی کے میدان میں نمایاں مقام دلانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رکھنی کو ڈویژن کا درجہ بہت پہلے مل جانا چاہیے تھا، تاہم اب ترقیاتی عمل کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رکھنی میں ترقیاتی کاموں کو بدعنوانی کے مافیا اور کمیشن کی لعنت سے پاک رکھنے کے لیے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں، جبکہ محکمہ مواصلات و تعمیرات خود ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کر رہا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ رکھنی کو ایک ایسا مثالی ڈویژن بنایا جائے جہاں ترقیاتی منصوبے شفاف انداز میں مکمل ہوں اور عوام کو ان کے ثمرات حاصل ہوں۔گوادر میں دہشت گردی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تعمیراتی کمپنی کی عمارت کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام بنانے پر سیکورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف پاک فوج، فرنٹیئر کور اور پولیس کی قربانیاں اور کارروائیاں قابل تحسین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگست کے بعد صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کے رجحان میں کمی آنا ایک مثبت پیش رفت ہے، جو سیکورٹی فورسز کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خلاف کارروائیاں جاری رہنی چاہئیں اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ بلوچستان سے دہشت گردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ فرمائے۔