حکومت نے جبری لاک ڈاﺅن مسلط کیا تو خاتوش نہیں بیٹھیں گے، مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان

مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان

کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے واضح موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر برادری کسی بھی صورت میں لاک ڈاﺅن قبول نہیں کرے گی، کاروباری مراکز اور مارکیٹیں بند کرنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہیں، کیونکہ پہلے ہی مہنگائی، بجلی و گیس کے بھاری بلوں، ٹیکسز، کم ہوتی قوت خرید اور کاروباری اخراجات میں اضافے نے تاجروں کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ یہ بات انہوں نے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ کاشف حیدری نے کہا کہ حکومت کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ مارکیٹیں اور کاروباری مراکز صرف تاجروں کے روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ لاکھوں مزدوروں، ملازمین، ٹرانسپورٹرز، سپلائرز اور ان سے وابستہ خاندانوں کے روزگار کا بھی ذریعہ ہیں، کاروبار بند کرنے سے معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ پہلے سے مشکلات کا شکار کاروباری سرگرمیاں مزید متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو ایندھن کی بچت یا اخراجات میں کمی مقصود ہے تو اس کا بوجھ تاجروں اور عام شہریوں پر ڈالنے کے بجائے سب سے پہلے اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے، سرکاری مراعات اور غیر ضروری اخراجات کا جائزہ لیا جائے اور حکومتی سطح پر حقیقی کفایت شعاری کے اقدامات کیے جائیں۔ مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان نے کہا کہ تاجر پہلے ہی مشکل ترین معاشی حالات میں اپنے کاروبار بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، مہنگائی کے باعث عوام کی قوت خرید کم ہوچکی ہے، دکانوں کے کرائے، بجلی کے بل، ٹیکسز، ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں جبکہ کاروبار میں وہ گنجائش نہیں رہی جو ان اخراجات کو برداشت کرسکے، ایسے میں لاک ڈاﺅن یا کاروباری اوقات محدود کرنے کا فیصلہ تاجروں کے لیے ناقابل برداشت ہوگا۔ کاشف حیدری نے کہا کہ حکومت کو کاروبار بند کرنے کے بجائے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ پر توجہ دینی چاہیے، مہنگائی میں کمی لانے، بجلی و گیس کے اخراجات کم کرنے، ٹیکسوں کے بوجھ کو کم کرنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، کیونکہ مضبوط معیشت کے لیے مارکیٹوں کا آباد رہنا اور کاروباری پہیہ چلنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں نے ہمیشہ ملک کے معاشی استحکام کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کیا ہے اور عوامی مفاد میں ہر ممکن کردار ادا کیا ہے، لیکن اس تعاون کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر مشکل کا بوجھ تاجروں پر ڈال دیا جائے اور انہیں بار بار کاروبار بند کرنے پر مجبور کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان لاک ڈاﺅن کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور تاجروں کے کاروبار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت اگر تاجروں کے مسائل حل کرنے کے بجائے کاروباری مراکز بند کرنے یا مزید پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کرتی ہے تو تاجر برادری خاموش نہیں بیٹھے گی اور آئینی و جمہوری حق کے تحت اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔ کاشف حیدری نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی بھی فیصلے سے گریز کرے جس سے تاجر، مزدور اور عام شہری مزید معاشی مشکلات کا شکار ہوں اور اس کے بجائے تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لے کر قابلِ عمل پالیسی تشکیل دے۔