کوئٹہ (ویب ڈیسک) کوئٹہ میں فاطمہ جناح اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر کمالان گچکی کے گھر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔ ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد فاطمہ جناح اسپتال کے اندر سے گزر کر ڈاکٹر کمالان گچکی کے گھر تک پہنچے، جہاں انہوں نے فائرنگ کی اور دھمکیاں دینے کے بعد فرار ہوگئے۔ فائرنگ کے واقعے میں ڈاکٹر کمالان گچکی اور ان کے اہل خانہ محفوظ رہے۔واقعے کیخلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فاطمہ جناح اسپتال کوئٹہ کی حدود کے اندر ڈاکٹر کمالان گچکی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ڈاکٹر صاحب محفوظ ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے، ہم اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوراً گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسپتال ایک مقدس جگہ ہے جہاں مریضوں کا علاج ہوتا ہے، اسپتال کی حدود کے اندر ڈاکٹرز اور طبی عملے پر حملہ نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ پورے صحت کے نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان حکومت بلوچستان سے فوری مطالبات کرتی ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ فاطمہ جناح اسپتال سمیت تمام سرکاری اسپتالوں کی سیکورٹی فوری طور پر موثر کی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان مجبوراً احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔
کوئٹہ، فاطمہ جناح اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر کمالان گچکی کے گھر پر فائرنگ، ینگ ڈاکٹرز کی مذمت
