کوئٹہ (ویب ڈیسک) بی ٹیوٹا نے ایک بلیک میلر گروپ کی جانب سے جعلی ورک پرمٹس کے حوالے سے سامنے آنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ادارہ خود کوئی ورک پرمٹ جاری نہیں کرتا، جبکہ زیرِ بحث مشکوک ورک پرمٹس بی ٹیوٹا کو اعتماد میں لیے بغیر امیدواروں کو براہِ راست ای میل کے ذریعے موصول ہوئے تھے۔ ادارے نے معاملہ سامنے آتے ہی دسمبر 2025 میں متعلقہ فرم سے وضاحت طلب کی، جس نے بھی مذکورہ ورک پرمٹس کو جعلی قرار دیا۔ ترجمان بی ٹیوٹا کے مطابق حکومتِ بلوچستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان کا وڑن صوبے کے نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ معیاری فنی تربیت فراہم کرکے انہیں باعزت اور محفوظ روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ یوتھ سکل ڈویلپمنٹ اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام صرف چند سو نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ 30 ہزار سے زائد ہنرمند نوجوانوں کو عالمی روزگار کی مسابقتی مارکیٹ کے لیے تیار کرنے کا جامع منصوبہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جعلی ورک پرمٹس کی اطلاع ملتے ہی امیدواروں کو بارہا متنبہ کیا گیا کہ وہ متعلقہ ادارے کی تصدیق کے بغیر کسی بھی ای میل، ورک پرمٹ یا آفر لیٹر پر اعتماد نہ کریں اور نہ ہی اپنے ذاتی کوائف فراہم کریں۔ بی ٹیوٹا آج بھی واضح کرتا ہے کہ ورک پرمٹ جاری کرنا متعلقہ فرم کی ذمہ داری ہے، جبکہ ادارہ صرف تصدیق شدہ ورک ویزہ کے حصول کے بعد اپنے طے شدہ ضوابط کے مطابق مالی معاونت کا پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اور فرضی دستاویزات کو بنیاد بنا کر ادارے اور حکومتی پروگرام کو بدنام کرنا نوجوانوں کے مفادات کے خلاف ہے۔ حکومت بلوچستان اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کے عزت، وقار اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور کسی بھی نوجوان کو غیر معتبر کمپنی یا غیر محفوظ روزگار کی طرف نہیں دھکیلا جائے گا۔ ترجمان بی ٹیوٹا نے واضح کیا کہ کسی کنسلٹنٹ فرم کی مبینہ بے ضابطگیوں سے متاثر ہونے والے نوجوانوں کی طرح بی ٹیوٹا بھی اس معاملے میں متاثرہ فریق ہے، کیونکہ حکومت بلوچستان نے اس منصوبے پر خطیر وسائل خرچ کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات پر چیف منسٹر انسپکشن ٹیم نے شفاف تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کی، جس کی روشنی میں اینٹی کرپشن ادارہ مزید قانونی کارروائی کر رہا ہے تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جاسکے۔ ترجمان نے بی ٹیوٹا دفتر میں نوجوانوں پر تشدد کے الزامات کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ نوجوانوں کے وفود ہمیشہ ادارے میں آئے، ان کے مسائل سنے گئے اور انہیں عزت و احترام کے ساتھ حکام سے ملاقات کا موقع فراہم کیا گیا۔ ادارہ گمراہ کن الزامات لگانے والے عناصر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان نے نوجوانوں کی سہولت کے لیے ڈائریکٹ ایمپلائمنٹ پروگرام بھی شروع کیا ہے، جبکہ QTECH کے تحت ایک ہزار نوجوانوں کو جدید آئی ٹی اور تکنیکی علوم کی عالمی معیار کی تربیت فراہم کرنے کا پروگرام بھی جاری ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو مارکیٹ سے منسلک کرکے باعزت روزگار کے قابل بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں روزگار حاصل کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ بی ٹیوٹا مسلسل رابطے میں ہے اور وہاں درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے۔ بیرونِ ملک روزگار کا عمل متعلقہ ممالک کے قوانین، ویزا کوٹے اور کمپنیوں کی ضروریات سے منسلک ہوتا ہے، اس لیے ہر مرحلے میں قانونی اور شفاف طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔ ترجمان بی ٹیوٹا نے کہا کہ ادارہ مستقبل میں صوبے کے نوجوانوں کو ملک کے نامور اور عالمی شہرت یافتہ تکنیکی و تعلیمی اداروں سے اعلیٰ معیار کی تربیت دلانے کے لیے بھی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ بلوچستان کے نوجوان عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مزید باصلاحیت بن سکیں۔ ترجمان نے آخر میں کہا کہ حکومت بلوچستان اور بی ٹیوٹا نوجوانوں کے مسائل کے فوری، شفاف اور عادلانہ حل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ نوجوان صوبے کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کے روشن، باوقار اور محفوظ مستقبل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ نوجوانوں سے اپیل ہے کہ وہ غیر مصدقہ ورک پرمٹس، آفر لیٹرز اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات پر یقین کرنے کے بجائے متعلقہ ادارے سے تصدیق ضرور کریں۔
کوئٹہ، بی ٹیوٹا نے بلیک میلر گروپ کی جانب سے جعلی ورک پرمٹس کے الزامات مسترد کردیے
