کوئٹہ (یو این اے) کوئٹہ میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں خصوصا کم آمدن والے طبقے کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، 50 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 7 ہزار روپے سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ شہریوں نے گرانفروشی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہےشہریوں کا کہنا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، تاہم آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے باوجود پرائس کنٹرول میکنزم مثر دکھائی نہیں دے رہا۔ غریب اور متوسط طبقہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار ہے، ایسے میں آٹے کی قیمت میں اضافہ ان کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔شہریوں کے مطابق کوئٹہ میں انتظامی امور کے لیے ضلع کو ایسٹ اور ویسٹ میں تقسیم کرنے کے بعد عوام کو ایک اور مشکل کا سامنا ہے۔ مختلف سرکاری امور کے لیے شہریوں کو متعلقہ انتظامی دفتر اور اپنے علاقے کے دائرہ اختیار کا تعین کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، جبکہ بعض شہریوں کا شکوہ ہے کہ انہیں ایسٹ اور ویسٹ کے انتظامی دائرہ کار کا حوالہ دے کر ایک دفتر سے دوسرے دفتر بھیجا جا رہاہےشہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں پولیس کے ایریا اور تھانے کی حدود کے معاملے پر عوام کو مشکلات کا سامنا رہتا تھا، اب انتظامی تقسیم کے بعد اسی نوعیت کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ شہریوں نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمت میں اضافے کا فوری نوٹس لے کر پرائس کنٹرول نظام کو فعال بنایا جائے اور ایسٹ و ویسٹ کی انتظامی تقسیم کے باعث عوام کو درپیش مسائل کے خاتمے کے لیے واضح اور آسان طریقہ کار وضع کیا جائے۔
غریب کی مشکلات میں مزید اضافہ، کوئٹہ میں 50 کلو آٹے کا تھیلا 7 ہزار روپے سے تجاوز کرگیا
