مسائل سے نجات کیلئے سیاسی اسیروں کی رہائی، آئین کی بحالی، جمہور کی حکمرانی ناگزیر ہوچکی ہے، پشتونخوا میپ

کوئٹہ (پریس ریلیز) پشتونخو املی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں کہاگیاہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ، پشتونخوامیپ کے چیئرمین اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی کال پر ملک کے مختلف ہیڈ کوارٹرز، اضلاع و علاقوں سمیت کوئٹہ، پشین، چمن، قلعہ عبداللہ خان، قلعہ سیف اللہ، ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، لورالائی، سنجاوی، زیارت، سبی، ہرنائی میں زبردست اور ولولہ انگیزاحتجاجی مظاہروں و اجتماعات منعقد کیے گئے۔ احتجاجی ریلیوں میں شرکاءنے عمران خان کی سیاسی سزا ختم کرو، ملکی آئین کو بحال کرو، جمہوریت کو بحال کرو، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی بحال کرو، ملک میں سویلین اتھارٹی بحال کرو، آمریت مردہ باد، جمہوریت زندہ باد، عمران خان، علی وزیر، ماہرنگ بلوچ اور سیاسی اسیرو ں کو رہا کرو، تحریک تحفظ آئین پاکستان زندہ باد کے فلگ شگاف نعرے لگائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کو اس وقت جن ہمہ جہت بحرانوں کا سامنا ہے اس میں سرفہرست معاشی بحران ہے، ساتھ ہی 26ویں، 27ویں آئینی ترمیمات کے ذریعے میڈیا اور عدلیہ کے آزادی کو پامال کیا گیا۔ اس وقت پارلیمنٹ کی بے توقیری جاری ہے۔ آئین و جمہوریت کو پامال کیا گیا اور سب سے بڑھ کر سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک کے ہمہ جہت بحران روز بروز گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ بیا ن میں کہا گیاہے کہ ملک کو تاریخ کی بدترین مہنگائی، بیروزگاری کا سامنا ہے بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بیروزگاری، تجارتی پابندیاں دراصل ہمارے عوام کی تجارت اور روزگار کو ختم کرنے کے مترادف ہے، پشتونوں کا معاشی قتل کرکے ان کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک منصوبے کے مطابق دہشت اور وحشت پراکسیز کے ذریعے پھیلائی جارہی ہے جس کا خاتمہ اور امن و امان ضروری ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پختونخوا وطن کے امن کیلئے کوئٹہ اور پشاور میں جرگے منعقد کرنے جارہی ہے، کوئٹہ کا سہ روزہ جرگہ 31,30 اگست یکم ستمبر کوئٹہ میں منعقد ہوگا جبکہ پشاور جرگہ کا اعلان بعد میں کیا جائیگا۔ مقررین نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے کارکنوں، بہی خواہوں اور عوام کی مظاہروں میں بہت بڑی تعداد میں شرکت دراصل موجودہ مسلط نام نہاد فارم 47کی حکومت اور ان کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا مظہر ہے جبکہ ملک کے بحرانوں کے خاتمہ کیلئے سیاسی ڈائیلاگ ضروری ہے۔